Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / ٹرمپ کا دورۂ مشرق وسطی سُنی۔ شیعہ خلیج بڑھانے کا نقیب تو نہیں؟

ٹرمپ کا دورۂ مشرق وسطی سُنی۔ شیعہ خلیج بڑھانے کا نقیب تو نہیں؟

ایس نہال سنگھ
ایک طرف ڈونالڈ ٹرمپ اپنے پہلے سرکاری دورۂ سعودی عرب پر کئی بلین ڈالر مالیت کے عدیم النظیر ملٹری کنٹراکٹس پر دستخط کررہے تھے، دوسری طرف ایران میں اصلاح پسند صدر حسن روحانی کی کٹرپسند ابراہیم رئیسی کے خلاف فیصلہ کن دوبارہ انتخاب والی فتح کا جشن منایا جارہا تھا۔ دونوں کا جگہ کا نمایاں فرق مشرقِ وسطی میں ارضی سیاسی اُلجھاؤ کو صاف طور پر پیش کرتا ہے، جیسا کہ سعودی لوگ سُنی دنیا کی قیادت کررہے ہیں جس کا شیعہ ایران کے ساتھ ٹکراؤ ہے جسے شیعہ اکثریتی ممالک شام، یمن، عراق اور لبنان کی پٹی پر اپنے اثرورسوخ کو پھیلانے کی فکر لگی رہتی ہے۔ بلاشبہ، نئے امریکی صدر کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے سعودی حکام براک اوباما دَور کے خاتمہ کی خوشی منائے، جو کبھی بھی اس سلطنت کے ساتھ تعلقات میں مطمئن نظر نہیں آئے۔ چنانچہ سعودیہ نے ایسے شخص کے اولین دورے کو نمایاں اہمیت دی جسے وہ دوستانہ طبیعت کا حامل معلوم ہوتا ہے اور جو انسانی حقوق جیسے مسائل پر فراخ دل دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، امریکی خاتونِ اول میلانیا نے اپنا سر ڈھانکنے کی زحمت گوارا نہیں کی، جو خواتین کیلئے مقامی رواج ہے۔
جہاں تک عالمی طاقتوں بشمول امریکہ کے ساتھ ایران کی دستخط شدہ نیوکلیر معاملت کی بات ہے، خود صدر ٹرمپ نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اس کو مسترد کرنے سے باز رہے کیونکہ حلیفوں کا دباؤ ہے اور مشرق وسطی کی پیچیدگیاں بھی بڑی وجہ ہے۔ انھوں نے پرانے معاہدے کی اساس پر تحدیدات کا لزوم جاری رکھا ہے بلکہ خود اپنی طرف سے بعض نئی معاشی تحدیدات بھی لاگو کردیئے ہیں۔ لیکن ٹرمپ کے ماضی کے موقف دیکھیں تو اُن کی مستقبل کی پالیسی سے کوئی میل نظر نہیں آتا، جیسا کہ صدر شی جن پنگ کے معاملے سے واضح ہے جن کو ماضی میں بہت بُرا بھلا کہا اور پھر چینی لیڈر کے امریکی دورے پر انھیں دانشمند ، محترم رہنما قرار دیتے ہوئے تعریفوں کے پُل باندھے۔
مشرق وسطی میں ٹرمپ کی آمد اور اسی موقع پر ایرانی صدارتی الیکشن کا نتیجہ برآمد ہونا، اس کے مضمرات واضح ہیں۔ اول یہ کہ زائد از 57 فی صد ووٹ کے ذریعہ روحانی کی فتح کا فرق اُن کی پہلی جیت سے کہیں بہتر ہے، جو ایرانی متوسط طبقات کے اضطراب و امیدوں کی علامت ہے۔ یقینا، یہ طبقات نے شہروں میں زبردست رائے دہی کے ذریعہ روحانی کی کامیابی کے فرق میں مدد کی ہے۔ اور پہلی بار ایران نے اپنے عوام کو ان پر لاگو ہونے والی تمام تر تحدیدات کے باوجود ’فری ووٹ‘ کی اجازت دیتے ہوئے برتر اخلاقی بنیاد پالی ہے۔ حرکیاتی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بیان میں اپنے پڑوس پر طنز میں کہا کہ ’’ہمارے عوام، دیگر کے برخلاف، ووٹ دیتے ہیں‘‘۔

ہر کوئی جانتا ہے کہ ایران میں اعلیٰ رہنما آیت اللہ خامنہ ای ہی سربراہ ہیں، لیکن منتخب صدر دیسی اور خارجہ پالیسیوں کے تعین میں مناسب حد تک آزادیٔ عمل حاصل رہتا ہے۔ نیوکلیائی معاہدہ حسن روحانی کیلئے بڑی کامیابی ری حالانکہ ایرانیوں کو اس بات پر مایوسی ہوئی کہ اس کے نتیجے میں عظیم تر بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوئی، کیونکہ بدستور جاری امریکی تحدیدات نے رکاوٹ کا کام کیا ہے۔ صدر روحانی کی جیت سے یقینی ہوگیا کہ ایران دنیا کے ساتھ عظیم تر تعاون کی سعی کرتا رہے گا، جس کا ایرانی لیڈر نے اپنی فتح پر پہلے عوامی خطاب میں ذکر کیا ہے۔ ’’ایرانیوں نے دنیا کے ساتھ باہمی مفاد اور قومی مفادات پر مبنی تعاون کی راہ کا انتخاب کیا ہے۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریولیوشنری گارز اور مذہبی گوشوں سے مخالفت ہوگی، لیکن یہ تو ہمیشہ کے مسائل ہیں جن کے ساتھ ہی ایران کو آگے بڑھنا ہوگا۔

تاہم، صدر ٹرمپ نے ارضی سیاسی مسائل کی نشاندہی کی ہے کیونکہ ایران کے ذاتی مفادات کا سعودیہ اور دیگر سُنی سطنتوں کے ساتھ ٹکراؤ ہورا ہے۔ اور دیگر بیرونی طاقتیں بھی اپنا کچھ مفاد رکھتی ہیں۔ شامی صدر بشارالاسد کو نئی تقویت عطا کرتے ہوئے ماسکو نے شام میں خود کا بڑا رول بنالیا، جو جنگی اڈوں سے متعلق اس کی پہلے سے موجود مشغولیت کے علاوہ ہے۔ ایران اور ترکی کے مانند اس نے بھی اب سیفٹی زون بنا لئے ہیں۔
جہاں ایران کا اپنا نظریہ ہے کہ وہ خطہ میں شیعہ طاقتوں کا حاکم بالا ہے، وہیں ترکی کا رول کچھ پیچیدہ ہے اور اپنی باغی کرد آبادی کے تئیں اپنے مخصوص خیال کے زیراثر معلوم ہوتا ہے اور اسے اندیشہ بھی ہے کہ وہ شامی کردوں (وائی پی جی) کے ساتھ ہاتھ ملا کر آزاد کرد مملکت تشکیل دے سکتے ہیں۔ لیکن وائی پی جی کو امریکیوں کی حمایت حاصل ہے کیونکہ نام نہاد اسلامی مملکت کے خلاف وہی بہترین جنگجو قوت ہیں اور اب وہ واشنگٹن کی طرف سے مسلح ہیں، جو ترک ناراضگی کا سبب ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ مسلم اور عرب دنیا میں امریکی مداخلت کو گھٹانے کی بجائے جیسا کہ انھوں نے ’’امریکہ مقدم‘‘ پالیسی اختیار کرنے کا وعدہ کررکھا ہے، ٹرمپ اڈمنسٹریشن اپنے ملک کی مشغولیت میں اضافہ کررہا ہے، پہلے عراق میں امریکی کمانڈوز بڑھائے گئے، افغانستان میں امریکی جتھہ میں اضافے کی تجویز رکھی گئی اور اب مشرق وسطی میں سُنی اتحاد کو مضبوط کررہا ہے۔
صدر ٹرمپ کی دشواریاں بہت ہیں۔ انھوں نے بین الاقوامی امور کی اپنی محدود ذاتی معلومات کو بڑھانے کی غرض سے ملٹری بجٹ میں بڑھوتری کی اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا درجہ گھٹایا نیز سوپروائزری کے سینئر عہدوں پر نواردوں کو مقرر کرتے ہوئے کئی سینئر عہدے خالی بھی چھوڑ دیئے ہیں۔ مثال کے طور پر وزیر خارجہ ریکس ڈبلیو ٹیلرسن (جو سابق میں ایک آئیل کمپنی کے سربراہ رہے) انھیں اپنے محدود شعبے کے سواء بین الاقوامی ڈپلومیسی کا کچھ تجربہ نہیں ہے۔
اگرچہ مشرق وسطی صدر ٹرمپ کیلئے پاک صاف خطہ ہوسکتا ہے لیکن یہ صدیاں نہیں تو کئی دہوں سے سامراجی طاقت کیلئے کڑی آزمائش رہا ہے، جہاں ملکوں کی سرحدیں بیرونی طاقتوں نے انتظامی سہولت کیلئے منقسم کررکھی ہیں اور شاہی حکمرانوں کو مرضی موافق اقتدار پر لایا اور بے دخل کیا جاتا ہے۔ امریکی اثر دوسری جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد تیزی سے پھیلا جب کہ بڑی سامراجی طاقت برطانیہ منظر سے غائب ہوگئی۔
صدر ٹرمپ اب اس حد تک انکساری برت رہے ہیں کہ شام میں لڑائی ختم کرنے کیلئے روسی مدد کے طلب گار ہیں اور شمالی کوریائی نیوکلیر اُلجھاؤ کی یکسوئی کیلئے چین سے مدد کی اپیل کررہے ہیں۔ اگر یہ بات بہت افسوسناک نہیں تو مزاحیہ ضرور ہوگی کہ خودپرستی کی طبیعت والا شیخی خورہ شخص دو دشمن طاقتوں سے مدد چاہ رہا ہے۔ کیا اُن کا دورۂ سعودی عرب جو اُن کاصدارت سنبھالنے کے بعد اپنے اولین بیرونی کیلئے منتخب کردہ ملک ہے، سُنی دنیا کے ساتھ امریکی ترکیب کو ٹھوس بنائے گا، حالانکہ اسلام سے اُن کی پرخاش معروف ہے۔ شاید ایسا ہی ہوگا، شاید نہیں۔ جس طرح انھوں نے مصری صدر السیستانی سے ملاقات میں جوش و خروش دکھایا، جن کے ساتھ اُن کے پیشرو نے ہمیشہ کچھ فاصلہ قائم رکھا، ٹرمپ کی ترجیحات یا مستقبل قریب کیلئے اُن کی خارجہ پالیسی کے تعلق سے بہت کچھ اشارہ دیتا ہے۔
امریکی صدر اپنے دورۂ اسرائیل پر زیادہ مانوس ماحول میں دکھائی دیئے، کیونکہ اُن کے داماد جیئرڈ کوشنر راسخ العقیدہ یہودی ہے اور جہاں غیرقانونی نوآبادیات کے ساتھ قریبی روابط کا حامل نیا سفیر بھی ہے۔ فی الحال، صدر ٹرمپ نے دو مملکت یا ایک مملکت والے مستقبل کے اسرائیل کے حسن و قبح کے بارے میں کوئی رائے ظاہر نہیں کی ہے۔
ابھی تک جو بات واضح ہوئی وہ امکان ہے کہ مشرق وسطی میں اُن کا داخلہ سُنی۔ شیعہ خلیج کو پاٹنے کی بجائے گہرا کرنے کا کام کرے گا۔ یہی امید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں اُن کے مشیران انھیں بہتر رہنمائی فراہم کریں، بشرطیکہ کٹوتی والا بجٹ اجازت دے اور کمزور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سینئر عہدے پُر کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT