Friday , November 17 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کا ہلاری کلنٹن پر قاتلانہ حملے کا اشارہ

ٹرمپ کا ہلاری کلنٹن پر قاتلانہ حملے کا اشارہ

حریف امیدوار پر دستوری ترمیم کو ختم کرنے کے ارادے کا الزام ۔ ٹرمپ کے بیان پر کئی گوشوں سے شدید تنقید
واشنگٹن۔10اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام)  امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ اپنی حریف امیدوار ہلاری کلنٹن پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے متنازعہ بیان دے کر ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آگئے۔واشنگٹن میں انتخابی ریلی سے خطاب میں ری پبلکن صدارتی امیدوار ٹرمپ  نے کہا کہ ’’ہلاری کلنٹن دستور کی دوسری ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہیں، اگر وہ صدر بنیں اور انہیں سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری کا موقع ملا تو آپ لوگ کچھ نہیں کرسکیں گے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’دوسری ترمیم کے حامی ضرور کچھ کریں گے اور مجھے نہیں معلوم اس روز کیا ہوگا لیکن اتنا ضرور بتادوں کہ وہ ایک ہولناک دن ہوگا‘‘۔واضح رہے کہ دوسری ترمیم کے تحت امریکی شہریوں کو اپنے دفاع کیلئے اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے اور ٹرمپ کا یہ الزام ہے کہ ہلاری کلنٹن اس ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ تاہم ہلاری اس الزام کو مسترد کرتی ہیں۔ 70 سالہ ٹرمپ کے مذکورہ بیان کے بعد تو سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا ہوگیا۔ ہلاری کے حامیوں نے اس بیان کو ’’قتل کی دھمکی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہلاری نے دوسری ترمیم ختم کی تو اسلحہ رکھنے کے حامی گروہ انہیں گولی مار دیں گے۔ہلاری کلنٹن کی انتخابی مہم کے منیجر رابی موک نے ٹرمپ کے بیان پر شدید تنقید میں کہا کہ ’’ٹرمپ جو کہہ رہے ہیں وہ انتہائی خطرناک ہے، ایک شخص جو امریکہ کا صدر بننے کا خواہاں ہو اسے کسی بھی صورت میں تشدد کی حمایت نہیں کرنی چاہیے‘‘۔کنکٹی کٹ کے سینیٹر کرس مرفی کا کہنا ہے کہ اس بیان کو محض سیاسی غلطی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے  یہ قتل کی دھمکی ہے جس کے بعد کسی قومی سانحہ کے رونما ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

جب ٹرمپ کے انتخابی کیمپ سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا مطلب یہ تھا کہ دوسری ترمیم کے حامی افراد ہلاری کلنٹن کے خلاف ووٹ دیں گے۔نیویارک کے سابق میئر اور ٹرمپ کے قریب ترین حامیوں میں سے ایک روڈی گیولیانی نے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ لوگ ہلاری کے خلاف ووٹ دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔بعد ازاں ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ہال میں موجود کسی بھی شخص نے میرے بیان کا یہ مطلب نہیں نکالا ہوگا جو میڈیا پر چل رہا ہے، ہلاری لوگوں سے اسلحہ چھین کر انہیں اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ کرنا چاہتی ہیں۔ٹرمپ اور ہلاری کلنٹن کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ دار امریکی سیکرٹ سروس نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کیا اور کہا کہ انہیں ٹرمپ کے بیان کا علم ہے۔امریکہ کی سنٹرل انٹلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق سربراہ مائیکل ہیڈن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’’ آپ صرف اس بات کیلئے ذمہ دار نہیں کہ آپ نے کیا کہا بلکہ اس کے بھی ذمہ دار ہیں کہ لوگوں نے کیا سنا‘‘۔امریکی سینیٹر الزبتھ وارین نے بھی ٹرمپ پر تنقید کی اور کہا کہ وہ ایک بزدل انسان ہیں اور ان سے یہ بات ہضم نہیں ہورہی کہ وہ ایک عورت سے شکست کھارہے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ٹرمپ امریکی  شہریوں کے اسلحہ رکھنے کے حق کی حمایت کرتے رہے ہیں، ان کی انتخابی مہم متنازعہ بیانات سے بھری پڑی ہے۔انہوں نے مسلمانوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی بات کی، میکسیکو کی سرحد پر فصیلوں کی تعمیر کے حوالے سے بیان دیا اور نیٹو ممالک کے خلاف بھی باتیں کرچکے ہیں۔

ہلاری کیساتھ زبردست مباحث کیلئے ٹرمپ بے چین
واشنگٹن ۔10اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اپنی ڈیموکریٹک حریف ہلاری کلنٹن کے ساتھ زوردار مباحث چاہتے ہیں ، لیکن پہلے یہ دیکھیں گے کہ سپٹمبر اور اکٹوبر میں مقررہ تین صدارتی مباحث کے قواعد و شرائط کیا ہوں گے ۔ ٹرمپ نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ میں بلاشبہ تینوں مباحث میں حصہ لوں گا ، میں اس سلسلے میں بے چینی سے منتظر ہوں لیکن مجھے شرائط جاننے ہوں گے ۔ امریکی صدارتی انتخابات میں مباحث کو نہایت اہم حصہ مانا جاتا ہے جو اکثر و بیشتر کسی امیدوار کی انتخابی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس مرتبہ تین صدارتی مباحث 26 سپٹمبر (نیویارک) ، 9 اکٹوبر ( سینٹ لوئی ) اور 19 اکٹوبر (لاس ویگاس) کو مقرر ہیں ۔ واحد نائب صدارتی مباحث 4 اکٹوبر کو ورجینیا میں منعقد شدنی ہیں۔ غیرجانبدار کمیشن برائے صدارتی مباحث ان ایونٹس کا انعقاد کرتا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT