Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کو امریکی صدارتی انتخاب میں ’دھاندلی‘ کا خدشہ

ٹرمپ کو امریکی صدارتی انتخاب میں ’دھاندلی‘ کا خدشہ

امریکہ اور روس دولت اسلامیہ کا نام و نشان مٹادیں گے، فاکس کے سوائے تمام میڈیا ادارے غیردیانتدار
واشنگٹن ۔ 2 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نومبر میں ہونے والے الیکشن میں دھاندلی ہو سکتی ہے۔ امریکی ریاست اوہایو کے شہر کولمبس میں ایک ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ’بار بار‘ سن چکے ہیں کہ مقابلہ غیر شفاف ہوگا تاہم انھوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد نہیں پیش کیے۔ اس سے قبل وہ ہلاری کلنٹن کے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدواری کا مقابلہ جیتنے پر بھی اس قسم کی بات کہہ چکے ہیں۔ ٹرمپ نے دھاندلی کے خدشامت فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی دہرائے۔ انھوں نے کہاکہ 8 نومبر کو ہمیں مزید ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ انتخابات میں دھاندلی ہوگ? اور مجھے امید ہے کہ رپبلکن اس پر گہری نظر رکھ رہے ہیں نہیں تو یہ (الیکشن) ہم سے چھین لیا جائے گا۔‘ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ایک  ادھر امریکہ میں ڈیموکریٹس اور رپبلکن رہنماؤں کی جانب سے ایک مسلم فوجی کی والدہ کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ سابق رپبلکن امیدوار جان مکین نے بھی اس معاملے پر ٹرمپ کی تنقید کی ہے۔

خیال رہے کہ مسلم فوجی کیپٹن ہمایوں خان 2004 میں 27 سال کی عمر میں عراق کے ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ ویت نام جنگ کا تجربہ رکھنے والے سینیٹر مکین نے انتہائی سخت الفاظ میں کہا کہ ٹرمپ کو ہمارے بہترین لوگوں کو بے وقار کرنے کی کھلی چھوٹ نہیں ہے۔غزالہ خان کے شوہر خضر خان نے جمعرات کو ڈیموکریٹک نیشنل کنوینشن میں ایک جذباتی تقریر کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ خضر خان کی تقریر کے دوران غزالہ خان کو بولنے نہیں دیا گیا۔ ایک دوسرے معاملے میں امریکی ارب پتی تاجر وارن بفٹ نے ٹرمپ کو اپنے ٹیکس ریٹرنز جاری کرنے کی بات کہی تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب تک کہ حکام آڈٹ مکمل نہیں کر لیتے اس وقت تک اسے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن وارن بفٹ کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریٹرنز عام کرنے اور لوگوں کے اس کے بارے میں سوال کے متعلق کوئی قانونی قباحت نہیں ہے۔ مسز کلنٹن کی حمایت میں ایک ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کے ٹیکس کی بھی جانچ ہو رہی ہے

لیکن وہ ٹرمپ سے اس بارے میں ’کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت‘ ملنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے دولت اسلامیہ کی بیخ کنی کیلئے روس کے ساتھ امریکہ کے خوشگوار تعلقات کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ روس بھی ایک نیوکلیئر توانائی کا حامل ملک ہے اور امریکہ اور روس ہاتھ ملا لیں تو دولت اسلامیہ کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر روس ولادیمیر پوٹن نے بھی ان کی (ٹرمپ) ستائش کی جس کا انہوں نے (ٹرمپ) بھی مثبت جواب دیا ہے۔ تاہم ہمارے ناقدین نے اس عمل کو ان پر تنقیدیں کرنے کیلئے استعمال کیا۔ ٹرمپ نے اوہائیو کے ٹاؤن ہال میں اپنے  ایک خطاب کے دوران میڈیا کو بھی نہیں بخشا اور سی این این کو انہوں نے ’’کلنٹن نیوز نیٹ ورک‘‘ سے تعبیر کیا کیونکہ سی این این ہلاری کلنٹن کا راگ الاپتا رہتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کو انہوں نے ایک غیر دیانتدار اخبار قرار دیا اور کہا کہ اب اس اخبار کے گنتی کے دن باقی رہ گئے ہیں۔ انہوں نے صرف فاکس نیوز کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ایسا صحافتی ادارہ ہے جس نے اپنی تحریروں میں دیانتداری برقرار رکھی ہے۔

TOPPOPULARRECENT