ٹرمپ کو شام پر فوجی کارروائی سے گریز کرنے جمی کارٹر کا مشورہ

امریکہ میں امن و امان کیلئے دعاگو ہوں، شمالی کوریا، روس اورشام بڑے چیلنجس
امریکی عوام کا بڑا طبقہ ٹرمپ کی تائید پر کفِ افسوس مل رہا ہے، نیوکلیئر حملہ ہی
نہیں بلکہ چھوٹی موٹی فوجی کارروائی بھی نہ کرنے سابق ڈیموکریٹ صدر کی تجاویز

اٹلانٹا ۔ 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر جنہیں اپنے دورصدارت پر فخر ہیکہ وہ دور پرامن دور رہا لیکن اس وقت امریکہ میں جو صورتحال پیدا ہوچکی ہے اس پر انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ موصوف اگر شام پر کسی بھی نوعیت کی فوج کشی سے گریز کریں تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف شام ہی نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی دیگر ملک کے خلاف بھی کوئی فوجی کارروائی نیوکلیئر حملوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا لہٰذا کسی بھی قیمت پر ٹرمپ کو ان حالات کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکنے چاہئے۔ کل ایک انٹرویو کے دوران سابق صدر نے کہا کہ وہ دعاگو ہیں کہ امریکہ میں امن و امان قائم رہے۔ ہمیں شمالی کوریا، روس اور شام کے حالات سے پیدا شدہ چیلنجوں سے بخوبی اور پرامن طور پر نمٹنا ہے۔ اگر بات بات پر ہم فوجی کارروائی کی دھمکیاں دینے لگیں تو ہمارا (امریکہ) وقار مجروح ہوگا اور دیگر چھوٹے ممالک کو بھی یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ امریکہ صرف دھمکیاں دینا جانتا ہے۔ عملی طور پر کچھ نہیں کرسکتا۔ ویسے بھی ہمیں کوئی تخریبی کارروائی نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو نہ صرف میری طرح بلکہ دیگر سابق امریکی صدور سے سبق حاصل کرنا چاہئے کیونکہ انہوں نے کسی بھی نیوکلیئر حملوں یا جنگ کے حالات پیدا ہونے ہی نہیں دیئے کیونکہ ایسا کرنا تباہی کو دعوت دینے کے سواء کچھ نہیں۔ نیوکلیئر جنگ تو بہت بڑی بات ہے۔ اس وقت امریکہ کو کسی چھوٹی موٹی کارروائی سے بھی گریز کرنا چاہئے ورنہ صورتحال بے قابو ہوسکتی ہے۔ یاد رہیکہ جمی کارٹر نے ٹرمپ کو یہ نصیحتیں اس لئے کی ہیں کہ ٹرمپ نے صرف کچھ روز قبل ہی شام پر کئے گئے کیمیکل حملوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے پر غور کرنے کی بات کہی تھی جبکہ ٹرمپ کے اس بیان کے فوری بعد روس نے بھی اپنے ردعمل کا فوری طور پر اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو سنگین نتائج کا انتباہ دیا تھا۔

یاد رہیکہ ٹرمپ اس سے قبل شمالی کوریا کے قائد کم جونگ ان کے ساتھ بھی تلخ کلامی کرچکے ہیں جبکہ آج حالات یہ ہیں کہ دونوں قائدین عنقریب ملاقات کرنے والے ہیں۔ سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ دشمن۔ جمی کارٹر عرصہ دراز سے اس پالیسی پر عمل پیرا رہے ہیں کہ امریکہ کو کمیونسٹ ڈکٹیٹرشپ سے راست طور پر نمٹنا چاہئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اعلان جنگ کردیا جائے۔ واضح رہیکہ جمی کارٹر نے حال ہی میں ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے جس کا عنوان ہے ’’فیتھ: اے جرنی فار آل‘‘۔ انہوں نے اس کتاب کا تذکرہ بھی کیا جس میں ٹرمپ اور امریکی عیسائیت میں پائے جانے والے مسلکی تنازعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اسوسی ایٹیڈ پریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ امریکہ میں اب ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جن کا اب جمہوریت کی اعلیٰ قدروں پر اعتماد باقی نہیں رہا جہاں دولت کے معاملہ میں عدم مساوات (کوئی بہت زیادہ غریب تو کوئی بہت زیادہ امیر)، اقلیتوں اور تارکین وطن کے خلاف کھلم کھلا امتیازی رویہ اور ایسا سیاسی نظام جسے صرف دولت کے سہارے کنٹرول کیا جارہا ہے۔ کارٹر ہمیشہ سے ایک کٹر ڈیموکریٹ رہے۔ انہوں نے ٹرمپ پر تنقیدیں کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کرتا ہیکہ انہوں نے ٹرمپ کی تائید کرکے بہت بڑی غلطی کی۔ امریکیوں کی اوسط تعداد بھی اب یہ محسوس کرتی ہیکہ انہیں حکومت سے جو توقعات وابستہ تھیں، حکومت ان پر پوری نہیں اتری اور اب وہ کچھ ’’نیا‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT