Monday , December 18 2017
Home / اداریہ / ٹرمپ کی ایران پالیسی

ٹرمپ کی ایران پالیسی

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
ٹرمپ کی ایران پالیسی
ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بننے کے بعد سے ایران کے تعلق سے امریکہ کے پہلے ہی سے ترش لب و لہجہ میں مزید تلخی پیدا ہوگئی تھی ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل ایران کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور وہ پہلے سے اشارے دے رہے تھے کہ ایران کے ساتھ چھ عالمی طاقتوں نے نیوکلئیر پروگرام پر جو معاہدہ کیا ہے وہ اس کو برخواست کردینگے ۔ ٹرمپ کے بیانات سے جو اندیشے پیدا ہو رہے تھے وہ درست ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے ایران کے ساتھ ہوئے معاہدہ کو عملا کالعدم کردیا ہے ۔ امریکہ کے قانون کے مطابق کسی بھی عالمی معاہدہ کی برقراری کیلئے صدر امریکہ کی جانب سے ہر تین ماہ میں منظوری ملنی ضروری ہوتی ہے ۔ ایران کے ساتھ معاہدہ کو برقرار رکھنے کیلئے ٹرمپ کو اتوار تک کا وقت ہے کہ وہ دوبارہ اس کی منظوری دیں تاہم ٹرمپ نے اعلان کردیا ہے کہ وہ ایسا نہیںکرینگے ۔ ٹرمپ کسی بھی وقت ایران پالیسی کا اعلان کرسکتے ہیں اور اس میں وہ معاہدہ کو برخواست کرنے کا اعلان بھی کرنے والے ہیں۔ اس معاہدہ کی برخواستگی کے بعد وسط ایشیا میں حالات میں کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے ۔ ویسے بھی اس معاہدہ کی وجہ سے ایران کو زیادہ کچھ راحت نہیں مل سکی تھی لیکن ٹرمپ کی جانب سے منظوری دئے جانے سے گریز کے نتیجہ میں اب امریکی کانگریس پر یہ ذمہ داری عائد ہوگئی ہے کہ وہ آئندہ دو ماہ کے اندر اس تعلق سے کوئی فیصلہ کرے ۔ یہ آثار و قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی کانگریس میں ایران پر دوبارہ معاشی تحدیدات عائد کرنے کے تعلق سے رائے بن سکتی ہے ۔ ٹرمپ اور ان کے ساتھی ایران پر دوبارہ معاشی تحدیدات عائد کرنے کیلئے امریکی کانگریس پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ٹرمپ اس تعلق سے بھی واضح اشارے دے چکے ہیں۔ یہ ایک طرح سے ہٹ دھرمی والی پالیسی ہے ۔ ٹرمپ کا استدلال ہے کہ یہ معاہدہ بارک اوباما نے کیا تھا جو امریکہ کیلئے سودمند نہیں ہے ۔ انہیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ بارک اوباما نے شخصی حیثیت میں نہیں بلکہ صدر امریکہ کی حیثیت سے یہ معاہدہ کیا تھا اور اس معاہدہ کے تحت بھی ایران کو کئی طرح سے پابند کیا گیا تھا ۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ادارہ نے رپورٹ دی ہے کہ ایران اس معاہدہ کی پاسداری کر رہا ہے ۔
ایران کے خلاف امریکہ کی منافرت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ جس وقت اوباما صدر تھے اور ایران میں حسن روحانی نے اقتدار سنبھالا تھا اس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی قدرے کم ہوئی تھی ۔ اس کے بعد ایران نے بھی بین الاقوامی طاقتوں کی بات کو مانتے ہوئے اپنے نیوکلئیر پروگرام کے تعلق سے ایک معاہدہ بھی کیاتھا ۔ اس معاہدہ کی رو سے ایران پر جو معاشی تحدیدات عائد کی گئی تھیں ان میں قدرے نرمی دی گئی تھی ۔ ایران کے داخلی حالات کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اس معاہدہ کی وجہ سے ایران پر جو تحدیدات عائد تھیں ان میں حالانکہ قدرے نرمی پیدا ہوئی ہے لیکن اس سے ایران کو داخلی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں کوئی خاص مدد نہیں مل سکی ہے ۔ ٹرمپ کا اور ان کے خیال سے اتفاق رکھنے والوں کا کہنا تھا کہ اس معاہدہ سے ایران کو فائدہ ہوا ہے ۔ وہ معاشی تحدیدات میں نرمی سے استفادہ کر رہا ہے اور ساتھ ہی اپنے تمام نیوکلئیر انفرا اسٹرکچر کو برقرار بھی رکھنے میں کامیاب ہو رہا ہے ۔ ان طاقتوں کا یہ مطالبہ ہے کہ ایران کے نیو کلئیر پروگرام کو نہ صرف ختم کردیا جائے بلکہ جو انفرا اسٹرکچر ہے اسے بھی تلف کردیا جائے ۔ ایران نے شدت کے مذاکرات کے بعد ایسے ہونے کی اجازت نہیں دی اور امریکہ کے علاوہ دیگر پانچ بڑے ممالک کے ساتھ اس کا معاہدہ ہوگیا تھا ۔ حالانکہ اس کو تاریخی معاہدہ بھی کہا گیا لیکن معاہدہ کو قطعیت دئے جانے کے بعد سے ہی اس پر تنقیدیں بھی شروع ہوگئی تھیں اور اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹرمپ نے مزید جارحانہ موقف اختیار کیا ہوا ہے ۔
اس معاہدہ کی رو سے ایران کو نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیا کے حصول سے روک دیا گیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ایران کا نیوکلئیر پروگرام ایک حد سے آگے بڑھنے میں ناکام ہے اور بین الاقوامی اداروں نے یہ توثیق کی ہے کہ ایران اس معاہدہ کی پوری طرح پاسداری کر رہا ہے ۔ اس صورتحال میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہر طرح کی تحدیدات اور پابندیوں کے باوجود ایران عالمی طاقتوں کے دباؤ کو ایک حد سے آگے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے اور یہی بات ڈونالڈ ٹرمپ کو ہضم نہیں ہو رہی ہے ۔ وہ اپنے ہٹ دھرم رویہ کی وجہ سے ایک بین الاقوامی معاہدہ کو ‘ جو خود ان کے ملک کی قیادت میں طئے پایا تھا ‘ تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT