Monday , June 25 2018
Home / دنیا / ٹرمپ کی بدگوئی پر افریقی ممالک برہم، معافی مانگنے کا مطالبہ

ٹرمپ کی بدگوئی پر افریقی ممالک برہم، معافی مانگنے کا مطالبہ

افریقی یونین نے امریکی صدر کے بیان کو نسل پرست وشرمناک قرار دیا،ٹرمپ کی تردید، سینیٹرس حیران
واشنگٹن۔13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) افریقی ممالک کی تنظیم نے بدگوئی پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔واشنگٹن میں افریقین یونین کے ترجمان نے شدید صدمے اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ ٹرمپ حکومت نے افریقی باشندوں کو غلط سمجھا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی افریقی ممالک سے متعلق ٹرمپ کے الفاظ کو نسل پرست اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے الفاظ صدمے کا باعث ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے ترجمان روپرٹ کالویل نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان سے بہت سے لوگوں کی زندگیاں تباہ ہوجائیں گی، ٹرمپ نے جو کہا وہ نسل پرستی کے سوا کچھ نہیں،آپ تمام ممالک اور پورے براعظم کو گالی دے کر ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانک سکتے۔گزشتہ دنوں امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ نے امیگریشن سے متعلق بند کمرہ اجلاس میں براعظم افریقہ کے لیے ایک بیہودہ لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کیوں ان ممالک کے لوگوں کو اپنے ہاں بلارہے ہیں۔ تاہم دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے افریقہ کو گالی دینے کی تردید کرتے ہوئے کہ مجھ سے منسوب الفاظ درست نہیں، میں نے کچھ اور الفاظ استعمال کیے تھے۔واضح رہے کہ 12 جنوری کو امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے خبر شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر نے جمعرات کو قانون سازوں سے ذاتی نوعیت کی ملاقات میں ہیٹی اور براعظم افریقہ کے کچھ ممالک افریقی ممالک کے خلاف ’انتہائی نازیبا الفاظ‘ استعمال کیے تھے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے تارکینِ وطن کے حوالے سے ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ممبران سے استفسار کیا تھا کہ’ہمارے ملک میں ان گھٹیا ممالک سے لوگ کیوں آرہے ہیں۔دیگر امریکی میڈیا نے اپنے ذرائع سے تصدیق کی کہ ٹرمپ کی جانب سے افریقی ممالک کے لیے غیر اخلاقی لفظ ادا کیا گیا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تردیدی بیان پر قانون ساز بھی حیران ہیں۔تارکینِ وطن سے متعلق امریکی صدر کے متنازع بیان پر بحث و مباحثے شروع ہونے کے کئی گھنٹوں بعد بھی کوئی تردید سامنے نہیں آئی تھی۔بعدِازاں دونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا گیا جس میں انہوں نے ٹوئیٹ کیا ‘ڈیموکریٹ ڈیانی فینسٹین کو مشترکہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو کو بغیر اجازت افشاں کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا، ان کا بیان کمیٹی ممبران کے لیے افسوس ناک اور ممکنہ طور پر غیر قانونی ہے’۔امریکی صدر نے ٹوئٹر پر اپنے دفاع میں مزید وضاحت دی ‘ہیٹی یا دیگر ممالک کے لیے توہین آمیز کچھ نہیں کہا، یقیناً یہ ایک غریب اور بحرانی کیفیت میں مبتلا ہیں لیکن کبھی ان ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو ‘بے دخل’ کرنے کا نہیں کہا جیسا کہ ڈیانی فینسٹین نے ظاہر کیا’۔تارکینِ وطن کے حوالے سے مذکورہ مٹینگ میں سینیٹر رچرڈ جے دربین بھی شامل تھے اور انہوں نے ٹرمپ کی تردید کو مسترد کیا جبکہ ڈیموکریٹ کے ایلونیس نے کہا ‘حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے نفرت بھرے لفظ بار بار استعمال کیے۔امریکی میڈیا کے مطابق تارکنِ وطن کے حوالے سے جاری میٹنگ میں ٹرمپ نے ازخود سوال اٹھا یا تھا کہ امریکہ میں ان گندے ممالک سے ہی کیوں لوگ آتے ہیں، ٹرمپ نے زور دیا تھا کہ امریکہ کو ناروے جیسے سفید نسلی ممالک سے تارکین وطن کو قبول کرنا چاہیے۔

TOPPOPULARRECENT