Saturday , November 18 2017
Home / پاکستان / ٹرمپ کی تنقید کے بعد چین اور روس کی تائید کا پاکستان کو تیقن

ٹرمپ کی تنقید کے بعد چین اور روس کی تائید کا پاکستان کو تیقن

وزیر خارجہ پاکستان کے دورے، تائید کے حصول کی کوشش، برطانیہ اور فرانس سے بھی ربط
اسلام آباد۔ 13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)چین اور روس نے پاکستان کو تیقن دیا ہے کہ سفارتی سطح کی تائید پاکستان کو فراہم کی جائے گی، اگر اقوام متحدہ پاکستان پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمہ سے قاصر رہنے پر معاشی تحدیدات عائد کرنے کی قرارداد پیش کرے تو اسے ویٹو کیا جائے گا۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلق میں ڈونالڈ ٹرمپ کے اگست میں پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی بنیاد پر تنقید کے بعد انحطاط پیدا ہوگیا ہے۔ روزنامہ ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ اور اس کے معاون روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ کی اطلاع کے بموجب امریکہ نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستانی عہدیداروں پر عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط کی بنیاد پر تحدیدات عائد کی جائیں گی۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے پیر کے دن انتباہ دیا کہ اگر پاکستانی عہدیداروں پر چن چن کر تحدیدات عائد کی جائیں تو اس سے امریکہ کی انسداد دہشت گردی کوششوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان ویٹو کی طاقت سے آراستہ دو ممالک چین اور روس کے ساتھ ربط برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکی پالیسی کی مخالفت کررہا ہے جو پاکستان پر غیرضروری دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ دونوں عالمی طاقتوں نے پاکستان کو تمام فورموں پر ہر ممکن مدد کا تیقن دیا ہے۔ پاکستان دیگر مغربی ممالک خاص کر فرانس اور برطانیہ سے ربط پیدا کررہا ہے تاکہ اس کے نقطہ نظر کیلئے تائید حاصل کی جائے۔ اسلام آباد کے سفارتی ذرائع نے روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ سے کہا کہ خارجہ پالیسی سازوں، صیانتی عہدیداروں اور اعلیٰ سطحی سرکاری عہدیداروں کی ذہن سازی کی گئی ہے تاکہ امریکہ کے بارے میں حکومت کی نئی پالیسی تشکیل دی جاسکے۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان بتدریج امریکہ پر اپنے انحصار میں کمی کرے گا اور اعلیٰ سطحی روابط امریکہ کے ساتھ اصلاح طلب ہیں۔ پاکستان نے ٹرمپ کے بااعتماد ساتھیوں کے ساتھ گہرے روابط کا آغاز کیا ہے۔ پاکستان نے اہم بین الاقوامی اور علاقائی ممالک سے ربط پیدا کرکے صدر ٹرمپ کی سخت تنقید کے پیش نظر تائید حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ وزیر خارجہ پاکستان جاریہ ہفتہ چین، ایران اور ترکی کا اسی مقصد سے دورہ کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT