Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کی حلف برداری کیلئے واشنگٹن میں سخت سکیورٹی اور جشن کا ماحول

ٹرمپ کی حلف برداری کیلئے واشنگٹن میں سخت سکیورٹی اور جشن کا ماحول

تمام تیاریاں مکمل ، ٹرمپ بائبل کے دو نسخوں کا استعمال کریں گے، امریکہ کی عظمت ِ رفتہ بحال کرنے منتخب صدر کا عزم

واشنگٹن۔18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ 20 جنوری کو امریکہ کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے حلف لینے والے ہیں اور یہاں اس سلسلے میں جشن کا ماحول ہے۔ ہزاروں افراد جن میں ہندوستانی نژاد امریکی شہری بھی شامل ہیں، جوق در جوق یہاں پہنچ رہے ہیں۔ حلف برداری تقریب کا تھیم ہے ’’میک امریکہ گریٹ اَگین‘‘ (امریکہ کو ایک بار پھر عظیم بنایئے)۔ اس نعرے نے ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حلف برداری کے وقت ٹرمپ دو اِنجیلوں کا استعمال کریں گے۔ ایک انجیل وہ ہے جسے امریکہ کے سابق صدر ابراہم لنکن نے حلف برداری کے وقت استعمال کیا تھا اور دوسری اِنجیل وہ ہے جو ڈونالڈ ٹرمپ اپنے بچپن میں پڑھا کرتے تھے۔ 12 جون 1955ء کو ٹرمپ کی والدہ نے دوسری انجیل انہیں اس وقت بطورِ تحفہ دی تھی جب نیویارک میں انہوں نے سنڈے چرچ پرائمری اسکول سے گریجویشن کیا تھا۔ 12 جون امریکہ میں ’’یوم اطفال‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی حلف برداری کی تیاریاں کل تک مکمل ہوجائیں گی۔ ’’میک امریکہ گریٹ اَگین‘‘ کا نعرہ دے کر ٹرمپ نے اپنی انتہائی تھکا دینے والی اور مصروف ترین انتخابی ریالیوں میں امریکی عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی جس نے بالآخر انہیں کامیابی سے ہمکنار کردیا۔ سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔ سبکدوش ہونے والے صدر براک اوباما نے حلف برداری تقریب کی تمام تیاریوں کا کل جائزہ لیا تھا۔ دوسری طرف کل ایک پریس کانفرنس میں وائٹ ہاؤز کے نئے پریس سیکریٹری شین اسپائسر نے بتایا کہ ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں ناقابل یقین حد تک صدر موصوف کے حامیوں کی تعداد موجود ہوگی۔ ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود ٹرمپ بھی ان کے حامیوں کی اتنی کثیر تعداددیکھ کر بے حد خوش ہیں اور اس بات پر نازاں ہیں کہ عوام کی کثیر تعداد حلف برداری تقریب میں شرکت کی خواہاں ہے۔ یہی نہیں بلکہ ٹرمپ کے مداحوں نے اپنے اپنے طریقہ سے تقریبات منانے کا آغاز بھی کردیا ہے جبکہ سرکاری سطح پر تقریبات کا آغاز 19 جنوری کو ہوگا۔ حلف برداری سے قبل نومنتخب صدر اور نائب صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور مائیک پنس آرلنگٹن قومی قبرستان میں گلہائے عقیدت پیش کریں گے جبکہ تاریخی نیشنل مال میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

لنکن میموریل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک بھر سے سینکڑوں فنکار  ٹرمپ کے ہزاروں مداحوں کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ حلف برداری تقریب میں ملٹری بینڈ بھی شرکت کرے گا جبکہ اختتامی کارروائی کے دوران آتش بازی بھی کی جائے گی۔ یاد رہے کہ امریکہ کی تاریخ میں جہاں ڈونالڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے لئے نیا جوش و خروش پایا جارہا ہے، وہیں یہ خبریں بھی گشت کررہی ہیں کہ ٹرمپ امریکہ کے اب تک کہ سب سے زیادہ غیرمقبول صدر کی حیثیت سے حلف لے رہے ہیں۔ ٹرمپ کو ناپسند کرنے والوں کا تناسب زیادہ ہے، لیکن بات جب پسند کی ہو تو ’’مثبت ہمیشہ منفی‘‘ پر غالب آجاتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی شخص میں بہت زیادہ عیوب ہوں لیکن کچھ خوبیاں بھی ہیں تو ان خوبیوں کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بالکل اسی طرح اگر ٹرمپ کے چاہنے والوں کا تناسب زیادہ ہے تو اس کے باوجود بھی ان کے مداحوں کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جس کا احساس شاید خود نومنتخب صدر کو بھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتخابی مہمات کے دوران ٹرمپ نے جو متنازعہ بیانات، وعدے اور عزائم کئے تھے، کیا وہ ان پر عمل آوری میں کامیاب ہوں گے؟ ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کا نعرہ ہے ’’سب کا ساتھ ، سب کا وِکاس‘‘، اگر ٹرمپ بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں تو امریکہ کو ایک بار پھر ’’عظیم ملک ‘‘بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

 

ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد
’’اوباما فیملی‘‘ پام اِسپرنگس روانہ ہوگی
واشنگٹن۔ 18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایک طرف امریکہ میں نئے صدر کی آمد آمد ہے تو دوسری طرف سبکدوش ہونے والے صدر اپنے ارکان خاندان کے ساتھ سرکاری طیارہ ’’ایرفورس ون‘‘ میں آخری بار سوار ہوکر پام اِسپرنگس جانے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ جی ہاں! 20 جنوری کو ڈونالڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کے بعد سابق صدر بارک اوباما اپنے ارکان خاندان کے ساتھ تعطیلات پر روانہ ہوجائیں گے۔ جمعہ کو اوباما فیملی کیلیفورنیا میں واقع پام اسپرنگس کے لئے روانہ ہوگی۔ یاد رہے کہ خود اوباما یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنی انتہائی مصروفیتوں کی وجہ سے اہلیہ اور بچیوں کے لئے مناسب وقت نہیں نکال پاتے تھے لہذا پام اسپرنگس کا نتخاب انہوں نے اس لئے کیا کہ انہوں نے بچیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں واشنگٹن سے گرم تر مقام پر لے جائیں گے اور پام اسپرنگس ان کی اس توقع پر پورا اُترا ہے۔ اوباما صدر امریکہ کی حیثیت سے اس مقام پر متعدد بار آچکے ہیں جہاں انہوں نے ارکان خاندان کے ساتھ بھی کچھ یاد گار وقت گزارا ہے۔ وائیٹ ہاؤز پریس سیکریٹری جوش ارنیسٹ نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اوباما تعطیلات گزارنے کے بعد واپس آجائیں گے، البتہ تعطیلات کتنی طویل ہوں گی۔ اس کا انہیں (ارنیسٹ) کو علم نہیں ہے۔ اوباما فیملی نے آٹھ بیڈ روم کا ایک مکان کرائے پر حاصل کیا ہے جہاں وہ تقریباً دو سال تک رہیں گے۔ امریکہ میں یہ روایت رہی ہے کہ نئے صدر کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے کے بعد سبکدوش ہونے والے صدر واشنگٹن سے آخری بار کوچ کرجاتے ہیں۔ ویسے اوباما آج وائیٹ ہاؤز میں اپنی آخری پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT