Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کی منافرت اور شر انگیزی شرمناک اور خطرناک : ہلاری

ٹرمپ کی منافرت اور شر انگیزی شرمناک اور خطرناک : ہلاری

SIOUX CITY JAN 6 :- U.S. Democratic presidential candidate Hillary Clinton takes a "selfie" photograph with a supporter at a campaign event in Sioux City, Iowa, United States, January 5, 2016. REUTERS/UNI PHOTO-2R

واشنگٹن۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلاری کلنٹن نے آج اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کے خلاف منافرت کا اظہار ری پبلیکن صدارتی امیدواروں کی جانب سے کیا جارہا ہے جو یقینا ناقابل قبول ہے جبکہ عالمی سطح پر دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے احساس اتحاد ہونا بے حد ضروری ہے۔ اتحاد میں جو طاقت ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لئے ہمارا ایک مقصد اور اتحاد ہونا چاہئے۔ منتشر ہوکر اور بغیر کوئی مقصد کے کوئی جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی اور شرپسندی کے بارے میں وہ جو کچھ سن رہی ہیں، وہ نہ صرف شرمناک بلکہ خطرناک بھی ہے۔ 2016ء کو آئے ابھی صرف چھ دن ہوئے ہیں اور اس نئے سال کے اپنے پہلے انٹرویو کے دوران 68 سالہ ہلاری نے راست طور پر ری پبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کا نام لینے سے گریز کیا، حالانکہ گزشتہ کچھ دنوں سے ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل بِل کلنٹن اور ہلاری کلنٹن کے خلاف زہر افشانی کرتے رہے ہیں۔ مسلمان ہوں، میکسیکن ہوں، خواتین ہوں یا پھر معذور افراد ہوں، کسی کے خلاف نفرت انگیز اور توہین آمیز ریمارکس کرنے سے کوئی فائدہ نہیں اور ایسا کرنا کوئی کامیاب قیادت کی علامت نہیں۔

 

ڈونالڈ ٹرمپ کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی کا مطالبہ
لندن ۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی برطانیہ میں داخلے پر پابندی کے معاملے پر بحث 18 جنوری کو دارالعوام میں کی جائے گی۔امریکی ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ٹرمپ اپنے متنازعہ ، غیر ذمہ دارانہ اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ ٹرمپ کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ برطانیہ میں ٹرمپ کے مخالف مسلم بیانات کے بعد مظاہروں کیساتھ ساتھ ملک میں داخلے پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے۔ برطانیہ میں 5 لاکھ 60 ہزار سے زائد افرا د نے ڈونالڈ ٹرمپ کی برطانیہمیں آمد پر پابندی کی درخواست پر دستخط کئے ہیں، جبکہ ایک لاکھ افراد نے اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بحث کا بھی مطالبہ کیا،جبکہ ایک اور درخواست میں 40 ہزار افراد نے ڈونالڈ ٹرمپ پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف شدید ردعمل کے بعد دارالعوام کے ارکان نے 18 جنوری کو بحث کافیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT