Tuesday , December 11 2018

ٹرمپ کی پالیسیاں اور حملے

اُن کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں
مرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
ٹرمپ کی پالیسیاں اور حملے
امریکہ میں آئے دن دہشت گرد حملوں کے پیچھے آیا کسی داخلی سرکاری سرپرستی میں انجام دی جانے والی کارروائیاں تو نہیں؟ جب سے صدر امریکہ کی حیثیت سے ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارت سنبھالی ہے، امریکہ اور ان کی ’’مخالف اسلامی ممالک پالیسیوں‘‘ کے درمیان ایک بڑا تنازعہ پایا جارہا ہے۔ ایمیگریشن پالیسی پر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت رائے سے بھی امریکہ میں مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والوں کے داخلے پر پابندی کے منصوبوں کو مضبوط بنانے میں یہ دہشت گرد حملے ایک بہانہ بھی ہوسکتے ہیں۔ نیویارک کے مین ہیٹن میں پیر کے دن ہونے والا حملہ ایک بنگلہ دیشی نژاد امریکی شہری نے کیا ہے۔ اس کے بارے میں نیویارک پولیس نے اس حملہ آور کے بارے میں اتنا بتایا کہ اس نے کم شدت والی تیکنک کا استعمال کیا تھا۔ دھماکہ خیز آلہ جسم کے ساتھ باندھ کر اس نے حملہ کی کوشش کی جس میں وہ خود بھی زخمی ہوا اور اگر چار افراد بھی زخمی ہوئے۔ صدر ٹرمپ نے جن 7 مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کی ہے، ان میں بنگلہ دیش تو نہیں ہے مگر اس ملک سے تعلق رکھنے والے شہری کو یہ حملہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ وہ بھی اپنے والدین کے ہمراہ 2011ء میں پناہ گزین ویزے پر امریکہ میں داخل ہوا تھا۔ بنگلہ دیشی عقائد اللہ کو اگر امریکی صدر کی پالیسیوں پر اعتراض تھا تو وہ خود بھی اس ملک کا شہری ہونے اور وہاں کے تمام شہری مراعات سے استفادہ کرنے والا شہری تھا۔ اس کے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگاکر یہ حملہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ پولیس کو اس بارے میں تفصیلی جانکاری حاصل کرنی چاہئے۔ ہر حملے کے بعد روایتی طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ حملہ آور کا تعلق دولت اسلامیہ یا داعش سے تھا یا داعش سے متاثر ہوکر حملہ کیا گیا۔ حال ہی میں برطانیہ میں ہونے والے حملوں اور وزیراعظم برطانیہ تھریسامے کے تبصروں پر صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی تنقیدوں نے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان تلخ ماحول پیدا کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم برطانیہ تھریسامے کو تنقید کا نشانہ بناکر یہ کہا تھا کہ وزیراعظم برطانیہ کو اپنے ملک کی سکیورٹی پر دھیان دینا چاہئے۔ اس بیان کے چند دن بعد ہی نیویارک میں دہشت گرد حملے کا واقعہ پیش آیا ہے تو یہ کسی بین قومی چیلنجس کا حصہ تو معلوم ہوسکتا ہے۔ بہرحال امریکی پولیس کو اپنی تفتیش و تحقیقاتی صلاحیتوں پر ناز ہے۔ وہ ہر واقعہ کی گہرائی تک پہنچ کر معاملہ سے نمٹنے میں مہارت رکھتی ہے تو اسے امریکہ میں نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں اور دہشت گردی کے واقعات کے ذمہ داروں کی کڑی کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح کے حملے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنے منصوبوں اور ایمیگریشن پالیسیوں کو سخت بنانے کی پالیسی کو روبہ عمل لانے کا موقع فراہم کرتے ہیں اور یہ دہشت گرد ہیں۔ صدر امریکہ کی مخالف اسلام یا مخالف مسلم دنیا پالیسی و رائے کو مزید کٹر بنانے میں مدد کررہے ہیں۔ امریکی انٹلیجنس اور لا انفورسمنٹ کے حکام نے دہشت گردوں کے منصوبوں سے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ یہ دہشت گرد امریکہ کے پرہجوم شہروں میں خودکش حملے کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایسا ہی حملہ نیویارک میں ہوتا ہے تو پھر امریکہ کے بڑے شہر اس طرح کے خودکش بم برداروں کے لئے آسان نشانہ ہوں گے۔ صدر ٹرمپ اپنی پالیسیوں کے ذریعہ ہی امریکی عوام کو سلامتی خطرات سے دوچار کررہے ہیں۔ یروشلم پر ان کا اعلان غم و غصہ کا باعث بن چکا ہے۔ 12 سال قبل القاعدہ کا صفایا کرنے والے امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کا خاتمہ کرے گا۔ اس وقت دولت اسلامیہ یا آئی ایس آئی ایس کا وجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی کوئی بڑی عالمی دہشت گرد تنظیم تھی مگر اچانک دولت اسلامیہ کا وجود میں آنا اور آئے دن صرف ان مقامات پر حملے ہونا جہاں کی صورتحال اور سکیورٹی کا مسئلہ بناکر حکمراں طاقت اپنی خطرناک پالیسیوں کو روبہ عمل لانے کا بہانہ یا موقع تلاش کرتے ہوں تو پھر نیویارک میں ہونے والا حملہ یا اس سے قبل کئے گئے حملے درپردہ سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ بہرحال ایسے حملے اگر طاقتور نوعیت کو ہوں تو نیویارک کا زیرزمین ٹرین نظام اور اس میں سفر کرنے والے لاکھوں عوام کی زندگیاں عدم تحفظ کے دائرہ میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ متعلقہ محکموں کیلئے تشویش کی بات ہے۔

TOPPOPULARRECENT