Thursday , July 19 2018
Home / Top Stories / ٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب پر شمالی کوریا کی تنقید

ٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب پر شمالی کوریا کی تنقید

PYONGYANG, FEB 4:- North Korean leader Kim Jong Un attends the trial of a trackless tramway, in this undated photo released by North Korea's Korean Central News Agency (KCNA) in Pyongyang February 4, 2018. KCNA/via REUTERS-1R

سیول ۔4فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) شمالی کوریا نے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک گناہ قرار دیا ۔ شمالی کوریا نے کہا کہ اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں انہوں نے امریکہ میں پرمٹ راج کا اعلان کیا ہے اور اس طرح ایک گناہ کا ارتکاب کیا ہے ۔ کئی ماہ قبل دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے پر سخت تنقیدوں کا تبادلہ ہوا تھا اور تعلقات میں سخت کشیدگی پیدا ہوئی تھی ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اندرون ملک خود پر تنقید کو نظرانداز کردیا ہے ۔ حالانکہ ان کی تقریروں کے خلاف وقفہ وقفہ سے انہیں تنقید کا امریکہ میں بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔ ان کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کو شمالی کوریا کے قائد کم جونگ اُن نے ظالمانہ آمریت پر مبنی خطاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عواقرو نتائج کی پرواہ کئے بغیر اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں ۔ حالانکہ ان پر شدید دباؤ پڑرہا ہے ۔ اُن کے نیوکلئیر ہتھیاروں کو اعظم ترین دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی سمجھا جارہا ہے ۔ کم جونگ اُن نے کہا کہ ان کا ملک نیوکلئیر طاقت میں گذشتہ نومبر سے اضافہ کررہا ہے ۔ جب کہ بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا جو امریکہ کی سرزمین کے کسی بھی علاقہ کو حملے کا نشانہ بنانے کے قابل ہے ۔ اُن کی تقریرانسانی حقوق کے استحصال کے خلاف تھی جو امریکہ کی سرزمین پر کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے ایک امریکی طالب علم کی گذشتہ سال ہلاکت کی مثال دی جو اپنی رہائی کے کچھ ہی دیر بعد ہلاک ہوگیا تھا ۔ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ کی تقریروں سے عکاسی ہوتی ہے کہ ٹرمپ کے انداز کارکردگی کو خود اُن کی سرزمین پر تائید حاصل نہیں ہے اور وہ من مانے قوم کو دھوکہ دینے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے پُرزور انداز میں کہا کہ ہمارے ملک پر بے انتہا دباؤ پڑرہا ہے اور لوک چاہتے ہیں کہ امریکی عوام دیگر عوام سے برتر نہ کہلائے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو یہ اعزاز مختلف سماجی نظاموں کی جانب سے عطا کیا گیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اپنی خوبیوں کے بارے میں چیختے چلاتے نہیں ‘ بلکہ خاموشی سے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں ۔ اپنی نئی نیوکلیئر پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا اس پالیسی کو قبول کرچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی ان کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب پر تنقید کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے تبصرے میں ان کے خطاب کو ایک گناہ کا ارتکاب قرار دیا گیا ہے ۔ حالانکہ وہ پوری دنیا کو انار کی سے بچانے کی اور اندرون ملک امن بحال کرنے کی کوشش میں مسلسل مصروف ہیں ۔ کم اور ٹرمپ ایک دوسرے پر شخصی حملے بھی کرتے رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT