Thursday , December 13 2018

ٹرمپ کے ایچ ون بی ویزا پروگرام میں توسیع پر امتناع کی تجویز پر ہر گوشہ سے تنقید

امریکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، ہندوستانیوں کیلئے تجویز تباہ کن
سندر پچائی اور ستیہ نادیلا بھی اسی ویزے پر امریکہ آئے تھے
مختلف ہندوستانی نژاد امریکی کانگریس مین اور کانگریس وومن کے تاثرات
واشنگٹن ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بعض امریکی قانون سازوں اور ایڈوکیسی گروپس نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایچ ون بی ویزوں کی توسیع کو روکنے کے مجوزہ منصوبہ پر زبردست تنقیدیں کی ہیں جو پانچ لاکھ تا ساڑھے سات لاکھ ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کو شدید طور پر متاثر کرے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ امریکہ میں باصلاحیت افراد کی قلت پیدا ہوجائے گی۔ یاد رہیکہ مجوزہ منصوبہ صدر ٹرمپ کے ’’بائے امریکن، ہائر امریکن‘‘ پیشرفت کا حصہ ہے جس کا انہوں نے گذشتہ سال اپنی انتخابی مہمات کے دوران وعدہ کیا تھا اور جس کا مسودہ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکوریٹی قائدین نے تیار کیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ ایچ ون بی پروگرام کے تحت عارضی طور پر امریکی ویزوں کی اجرائی عمل میں آتی ہے جس کے ذریعہ کمپنیوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ بیرونی ممالک کے انتہائی ماہرین کی خدمات حاصل کرے جو ایسے علاقوں میں برسرکار ہیں جہاں باصلاحیت امریکی ورکرس کا فقدان ہے تاہم گذشتہ سال جنوری میں وائیٹ ہاؤس میں قدم رکھتے ہی ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B ویزا کی اسکیم کو نامنظور کرنے کی کوشش کا آغاز کردیا تھا۔ دوسری طرف بارسوخ کانگریسی خاتون تلسی گبارڈ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ون بی ویزا برداروں پرخون آشام تحدیدات عائد کرنے سے کئی خاندان منتشر ہوجائیں گے جبکہ باصلاحیت افراد سے پر ہمارا سماج پسماندہ کہلانے لگے گا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان امریکہ کا پسندیدہ شراکت دار ہے اور H-1B ویزا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ناخوشگوار بھی کرسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس تجویز سے 5 لاکھ تا ساڑھے سات لاکھ ورکرس کو ہندوستان واپس بھیج دیا جائے گا جو ایچ ون بی ویزا بردار ہیں جن میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے جو چھوٹی موٹی تجارتیں کرتے ہیں اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے والے ہیں۔ اس طرح یہ تمام لوگ امریکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ اس نوعیت کی تجویز سے جدیدیت کا رجحان شدید طور پر متاثر ہوگا اور 21 ویں صدی کی عالمی معیشت میں ہماری مسابقتی صلاحیت میں کمی واقع ہوگی۔ دوسری طرف ہندو امریکن فاؤنڈیشن (HAF) نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایچ ون بی ویزا پروگرام کو توسیع نہ دینے کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو دراصل گرین کارڈ رکھنے والے درخواست گزاروں پر اثرانداز ہوگا اور ان کے پاس سوائے اپنے متعلقہ وطن لوٹ جانے کے دوسرا کوئی متبادل نہیں ہوگا۔ یہ بتائیے کہ ایسے ہزاروں ہنرمند ورکرس کو ان کے متعلقہ وطن بھیج دینے کے بعد ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کے ایجنڈہ پر کس طرح عمل آوری ہوگی؟ یہ تمام ورکرس ہماری STEM صنعتوں کی ریڑھ کی ہڈی تصور کئے جاتے ہیں۔ ہندوستانی نژاد امریکی کانگریس مین راجہ کرشنا مورتی نے کہا کہ گھریلو ورکرس کیلئے عصری نوعیت کی تربیت فراہم کئے جانے کو یوں تو ترجیح دی جارہی ہے تاہم ایچ ون بی کی توسیع پروگرام کو مسدود کرنے سے امریکی معیشت اثرانداز ہوگی اور اس طرح کمپنیوں کی مزید آف شور (سمندر پار) جابس کیلئے حوصلہ افزائی ہوگی جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ سرمایہ کاری امریکہ میں ہی کی جائے۔ مجھے توقع ہیکہ ٹرمپ انتظامیہ فوری طور پر اس تجویز کو مسترد کرے گا۔ کانگریس مین روکھنہ نے اس تجویز کو امیگرنٹ مخالف قرار دیا اور کہا کہ ان کے والدین گرین کارڈس کی بنیاد پر امریکہ آئے تھے اور یہی ہم ستیہ نادیلا اور سندرپچائی کے بارے میں بھی کہہ سکتے ہیں۔ اب ٹرمپ امیگرنٹس اور ان کے بچوں کو واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کیلئے (امیگرنٹس) امریکہ میں کوئی جگہ نہیں۔ یہ بالکلیہ ایک غلط فیصلہ ہے۔ روکھنہ نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ صدر صاحب، کیا امریکہ ہمارے بغیر ایک عظیم ملک کے موقف پر قائم رہ سکے گا؟ دوسری طرف امیگریشن وائس کے امن کپور نے کہا کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کی توسیع مسدود کرنا ہر سطح پر ایک غلط فیصلہ ہے جو خصوصی طور پر ہندوستانیوں کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT