Friday , December 15 2017
Home / دنیا / ٹرمپ کے تازہ ترین سفری امتناع کے حکم کو امریکی جج نے مسترد کردیا

ٹرمپ کے تازہ ترین سفری امتناع کے حکم کو امریکی جج نے مسترد کردیا

 

واشنگٹن۔ 18 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک امریکی وفاقی جج نے وائیٹ ہاؤز پر صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے امیگریشن پر ایک اور متنازعہ حکم عاملہ پر اطلاق کیلئے امتناع عائد کردیا ہے حالانکہ کچھ ہی گھنٹوں بعد اس حکم عاملہ پر عمل آوری شروع ہونے والی تھی۔ ہوائی کے یو ایس ڈسٹرکٹ جج ڈیرک واٹسن جہاں وائیٹ ہاؤز سے اپیل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، کے فیصلہ نے صدر ٹرمپ کے کون دیرینہ کوششوں کو ایک اور دھکا لگایا ہے جو کچھ چنندہ مسلم ممالک کے شہریوں کے ایک امریکہ آنے پر پابندی عائد کرنا چاہتے ہیں۔ واٹسن نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ٹرمپ کے ذریعہ سفر پر امتناع کی تیسری کوشش جو دراصل 6 مسلم ممالک کے شہریوں کے علاوہ شمالی کوریا اور وینیزویلا کے کچھ عہدیداران کے امریکہ آنے پر عائد کی گئی ہے، کو کسی بھی طرح منصفانہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اپنے فیصلہ میں جج نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیا گیا امتناع ان کے قبل ازیں جاری کئے گئے حکم عاملہ کی طرح نقائص سے پر ہے کیونکہ اس طرح زائد از 150 ملین افراد کی امریکہ آمد پر روک لگانا خود امریکہ کے مفاد کے مغائر ہوگا۔ اس حکم نامہ کا بالکل واضح مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک بار پھر سپریم کورٹ سے استفسار کرے کہ آیا صدر کا حکم عاملہ قانونی ہے یا نہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ نئے حکم عاملہ نے قبل ازیں جاری کئے گئے حکم عاملہ کی جگہ لی ہے جو 90 دنوں کی میعاد کے بعد ازخود غیرکارکرد ہوگیا جس کے ذریعہ مسلم اکثریتی ممالک ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کے امریکہ کا سفر کرنے پر امتناع عائد کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT