Tuesday , November 21 2017
Home / دنیا / ٹرمپ کے نظرثانی شدہ ایگزیکیٹیو حکمنامہ پر عنقریب دستخط

ٹرمپ کے نظرثانی شدہ ایگزیکیٹیو حکمنامہ پر عنقریب دستخط

پنٹاگون اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دباؤ میں نئے حکمنامہ کا مسودہ تیار
واشنگٹن ۔ 6 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ جنہوں نے متنازعہ ایگزیکیٹیو حکمنامہ جاری کرکے خود اپنے لئے درد سر مول لیا تھا کیونکہ حکمنامہ کی اجرائی کے بعد ملک بھر احتجاج کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس پر ٹرمپ کو بھی اپنے حکمنامہ پر نظرثانی کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا تھا اور اب حالت یہ ہیکہ ٹرمپ نظرثانی شدہ حکمنامہ پر دستخط کی تیاریاںکررہے ہیں۔ قبل ازیں ٹرمپ نے کئی مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کا امریکہ میں داخلہ ممنوع قرار دیا تھا جس کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے حامیوں نے احتجاجی ریالیوں کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ ٹرمپ نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ امریکہ میں پناہ گزینوں کا داخلہ بھی روک دیا جائے گا۔ دریں اثناء وائیٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نئے حکمنامہ کو جلد ہی منظرعام پر لانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر یہ بات بتائی کیونکہ وہ نئے حکمنامہ کا سرکاری اعلان ہونے تک کوئی تفصیلات نہیں بتا سکتا۔ یاد رہیکہ ٹرمپ کے قبل ازیں جاری کئے گئے حکمنامہ کو ایک وفاقی عدالت نے کالعدم قرار دیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ نیا حکمنامہ پہلے والے حکمنامہ کو درپیش قانونی چیلنجس پر قابو پا سکے گا۔ حالانکہ دوسرے حکمنامہ کا مقصد بھی تقریباً یکساں ہے یعنی دہشت گردوں کو امریکہ سے دو رکھنا۔ دوسری طرف حکومت پناہ گزینوں کے معاملہ سے بھی سختی سے نمٹنا چاہتی ہے اور موجودہ طریقوں پر بھی نظرثانی کرے گی خصوصی طور پر دنیا کے کچھ مخصوص ممالک سے آنے والے شہریوں کی ویزہ درخواستوں پر بھی دوبارہ غوروخوض کیا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ اگر ٹرمپ کے گذشتہ حکمنامہ میں ایران، عراق، صومالیہ، سوڈان، یمن، شام اور لیبیا کے شہریوں کو امریکہ آنے سے روکنا ہے جب پناہ گزینوں کے پروگرام کو فی الحال وہیں چھوڑدینا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔ البتہ جب نیا حکمنامہ تیار ہوگا تو اس میں سے عراقی کا نام حذف ہوگا جہاں کے شہریوں پر امریکی ویزہ کے حصول کیلئے 90 دن تک عبوری امتناع عائد کیا گیا ہے۔ وائیٹ ہاؤس اور پنٹگان نے صدر موصوف پر دباؤ ڈالا تھا کہ عراق نے جس طرح دولت اسلامیہ کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھی ہے وہ کوئی معمولی بات نہیں ہے لہٰذا اب وقت آ گیا ہیکہ عراق کا نام اس فہرست سے خارج کردیا جائے۔ نئے حکمنامہ کا جو متن تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق دیگر 6 ممالک کے شہریوں پر بھی ویزہ کے حصول کیلئے 90 دنوں تک امتناع جاری رہے گا کیونکہ ٹرمپ انتظامی ہان چھ ممالک کے بارے میں ہنوز غوروخوض کررہے ہیں۔ جہاں دیگر ترمیمات کا سوال ہے تو ان میں سے کچھ اس طرح ہیں کہ تمام موجودہ ویزوں کا احترام کیا جائے گا جبکہ شامی پناہ گزینوں کے لئے کافی مراعات ہوں گی اور انہیں یکاوتنہا نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ فیصلہ کیا گیا ہیکہ شامی اور دیگر پناہ گزینوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا جائے گا اور پناہ گزینوں سے متعلق جو پروگرام وضع کیا گیا ہے اس سے انہیں 120 دنوں تک استثنیٰ حاصل رہے گا۔ علاوہ ازیں مذہبی اقلیتوں کیلئے لسانی لزوم کا بھی کوئی مشق نئے حکمنامہ میں نہیں رکھی گئی ہے کیونکہ نقادوں نے اس جانب توجہ دلائی تھی کہ لسانی (زبان) نقطہ کو قصداً اٹھایا گیا تھا تاکہ عیسائیوں کو فائدہ ہو اور مسلمانوں کو نہیں۔ یاد رہیکہ ٹرمپ نے صدر کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہوتے ہی پوری دنیا میں غم و غصہ اور افراتفری کا ماحول پیدا کردیا تھا کیونکہ مسافرین کو امریکی ایرپورٹس پر روک لیا گیا تھا اور دیگر ممالک میں امریکہ کیلئے پرواز کرنے والے طیاروں میں انہیں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT