Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / ٹرمپ کے یروشلم فیصلہ کیخلاف فلسطینیوں کا تازہ احتجاج

ٹرمپ کے یروشلم فیصلہ کیخلاف فلسطینیوں کا تازہ احتجاج

امریکہ کو امن مذاکرات کا ثالث تسلیم کرنے سے انکار، پورے فلسطین میں برہمی کی لہر
یروشلم ۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے متنازعہ امریکی فیصلہ کے خلاف بطور احتجاج ہزاروں فلسطینی تازہ احتجاج میں آج سڑکوں پر نکل آئے۔ 4 فلسطینی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے بموجب احتجاجی امریکہ اور اسرائیل کے پرچم کو اور ٹرمپ کی تصویروں کو پیروں تل کچل رہے تھے جس کی تصویریں سماجی ذرائع ابلاغ پر شائع کی گئیں لیکن اندیشہ ہیکہ اس متنازعہ فیصلہ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر خون ریزی کی لہر چلے گی۔ پوری فلسطینی سرزمینوں پر آج مسلسل دوسری جمعہ کو نماز جمعہ کے بعد احتجاج پھوٹ پڑا۔ نوجوان فلسطینی اور اسرائیلی فوجیوں میں جھڑپیں ہوئی۔ غزہ میں حماس کے اسلام پسند حکمرانوں نے ایک اور یوم برہمی کا امریکی فیصلہ کے خلاف اعلان کیا تھا جس پر ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے۔ اسرائیلی سرحد پر بھی جھڑپیں ہونے کا اندیشہ ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارہ میں ہزاروں افراد شہر حبران اور نبلوس میں جمع ہوگئے تھے۔ العروب کیمپ کے قریب جو بیت اللحم کے جنوب میں ہے، جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ یروشلم میں 30 ہزار افراد مسجد اقصیٰ کے قریب جمع ہوگئے تھے لیکن یہ جلوس کسی ناخوشگوار واقعہ کے بغیر منتشر ہوگیا۔ معمولی جھڑپیں قدیم شہر یروشلم میں ہوئیں۔ یروشلم کا موقف انتہائی متنازعہ ہے جس کی بناء پر اسرائیل ۔ فلسطین جھڑپیں ہوا کرتی ہیں۔ اسرائیل نے شہر کے مشرقی علاقہ پر 1967ء کی مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران قبضہ کرلیا تھا جن میں پورا شہر یروشلم بھی شامل تھا جسے وہ اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے جسے مستقبل کی ریاست اسرائیل کا دارالحکومت بنایا جائے گا۔ برسوں سے عالمی طاقتیں تل ابیب میں اپنے سفارتخانے برقرار رکھتے ہوئے اس فیصلہ پر اظہارخیال سے گریز کررہی تھیں لیکن صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے پہلی بار یروشلم کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے تل ابیب سے اپنے سفارتخانہ کو یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی۔ فلسطینیوں نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیلیوں کے ساتھ مذاکرات کے سلسلہ میں امریکہ کوبحیثیت ثالث تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ اس کا موقف اب غیرجانبدارانہ نہیں رہا۔ وہ ٹرمپ کے اعلان پر برہم ہیں۔ تاہم صدر فلسطینی اتھاریٹی محمود عباس نے اپنی پارٹی الفتح کو اسرائیل سے تعلقات منقطع کرلینے کی ہدایت نہیں دی ہے۔ مغربی کنارہ میں حماس کا موقف کافی کمزور ہے۔ چنانچہ وہ تشدد میں ملوث نہیں ہوسکتی اور اس کے موقف میں عنقریب تبدیلی کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ غزہ پٹی کی ناکہ بندی اسرائیل اور مصر دونوں نے کر رکھی ہے۔

TOPPOPULARRECENT