Wednesday , November 22 2017
Home / دنیا / ٹرمپ ۔ یاہو ملاقات :اسرائیل ، فلسطین اور ایران بات چیت کے اہم موضوعات

ٹرمپ ۔ یاہو ملاقات :اسرائیل ، فلسطین اور ایران بات چیت کے اہم موضوعات

فلسطینیوں کو امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی کا شدت سے اِنتظار
واشنگٹن 15 فروری (سیاست ڈاٹ کام)عرب دنیا کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو از سر نو ترتیب دینے اور اسرائیل، فلسطین امن سے متعلق کوششوں کے رُخ پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ سے آج ملاقات کر رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس ملاقات میں بدلے ہوئے منظر نامے میں اسرائیلی رہنما ایران اور علاقائی امور پر امریکہ کیساتھ مشترکہ پہلو تلاش کرنے کے متمنی ہوں گے ۔وائٹ ہاوس میں اس امریکہ اسرائیل اعلیٰ سطحی ملاقات سے پہلے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے ، جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے اور کینیڈا کے وزیراعظم جسٹس ٹروڈو نئے امریکی صدر سے ملاقات کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ سے امریکی ایوان اقتدار میں بالمشافہ ملاقات کرنے والے چوتھے غیرملکی رہنما ہوں گے ۔ اس ملاقات میں حسب اندازہ ایک طرف جہاں مسٹر یاہو حالیہ دنوں میں پیش آنے والے متعدد واقعات کے تناظر میں ایران کا راستہ روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں وہیں امریکہ روانہ ہونے سے قبل مسٹر یاہو نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو مملکتی حل سے متعلق اسرائیلی موقف کی وضاحت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں امریکی سفارتی مشن کے سربراہ کے طور پر 2001 ء سے 2004ء تک کام کرنے والے سابق سفارت کار رچرڈ لیبرون کہتے ہیں کہ فلسطینیوں کو اس ملاقات سے خاصی دلچسپی ہو گی اور وہ یہ بات شدت سے جاننا چاہیں گے کہ فلسطینی تنازعہ کے تعلق سے امریکہ کی پالیسی میں کسی تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے یا نہیں۔

وائس آف امریکہ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے امور کے ایک ماہر ڈیوڈ میکووسکی کے نزدیک ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات میں دو سوال بڑے اہم ہو سکتے ہیں۔ اول یہ کہ “عرب ملکوں کے ساتھ کیسے کام کیا جائے ! اور دوئم یہ کہ خطے میں ایران کے اثرورسوخ کو کیسے محدود کیا جائے ؟”۔واضح رہے کہ اپنے نیوکلیئر پروگرام میں تخفیف سے متعلق سے متعلق ایران نے امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں ہی اس معاہدے کے بڑے ناقد رہے ۔ دیکھنا ہے کہ نئے امریکی صدر اس معاہدے کو یکسر مسترد کرنے کا جوکھم بھرا قدم اٹھاتے ہیں یا اس معاہدے پر سختی سے عمل کے لئے ایران پر زیادہ دباؤ ڈالنے سے کام لیتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے میزائل تجربہ کو اپنی حفاظت کے لئے اہم بتاتے ہوئے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کو خارج کردیا تھا۔ اقوام متحدہ میں جمہوریہ کوریا کے سفیر ہان تائی سونگ سے ترک اسلحہ پر ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی کوریا کی طرف سے کئے گئے مختلف میزائل تجربات اپنے اقتدار اعلیٰ کو بچانے اور اپنے لوگوں کی سلامتی کے لئے لازمی اقدام ہیں ۔وزارت کی ترجمان نے کہا کہ شمالی کوریائی سفیر سے کہا گیا ہے کہ وہ اس اہم پیغام کو سنجیدگی کے ساتھ اپنی سرکار تک پہنچائیں ۔

TOPPOPULARRECENT