Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹریفک آمد و رفت کو بہتر بنانے نئی سڑکیں اور روڈ اوور بریجس

ٹریفک آمد و رفت کو بہتر بنانے نئی سڑکیں اور روڈ اوور بریجس

26 ہزار 50 کروڑ کے خرچ کا تخمینہ ، گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے منصوبہ کو قطعیت
حیدرآباد۔25ڈسمبر(سیاست نیوز) 26 ہزار 50 کروڑ کی لاگت سے ہائی ٹیک سٹی‘ مادھاپور‘ گچی باؤلی‘ کوکٹ پلی ‘ بنجارہ ہلز اور جوبلی ہلز کے علاقو ں میں ٹریفک کی آمد و رفت کو بہتر بنانے کیلئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے نئی سڑکیں اور روڈ اوور برج کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی اور سال 2017-18کے دوران 5 نئی سڑکوں اور روڈ اوور برج کے کاموں کی تکمیل کو یقینی بنایاجائے گا۔ جی ایچ ایم سی کے اعلی عہدیدار کے مطابق شہر حیدرآباد کے ان علاقوں گچی باؤلی‘ مادھا پور ‘ بنجارہ ہلز‘ جوبلی ہلز ‘ کوکٹ پلی اور اطراف کے علاقوں کے عوام کو ٹریفک جام کے مسائل سے نجات کیلئے تیار کردہ اس منصوبہ کو2018کے دوران مکمل کرنے کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور ان میں سے بیشتر پراجکٹس کو انتظامی منظوری بھی حاصل ہوچکی ہے ۔بنجارہ ہلز روڈ نمبر 2 سے جوبلی ہلز روڈ نمبر 5 کرشنا نگر جنکشن تک نکالی جانے والی نئی سڑک کی تعمیر جوں کی توں ہے کیونکہ اس نئی سڑک کی تعمیر کے درمیان حائل جائیدادکے تنازعہ کے سبب یہ پراجکٹ تاخیر کا شکار بنا ہوا ہے۔ہائی ٹیک سٹی سے بورہ بنڈہ جانے والی سڑک پر نئے روڈ اوور برج کی 4ہزار 950 کروڑکی لاگت سے تعمیر عمل میں لائی جائے گی اور اس پراجکٹ کو بھی اندرون ایک سال مکمل کرنے کی حکمت عملی تیار کی جار ہی ہے۔اسی طرح مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے ملائیشین ٹاؤن شپ سے ہائی ٹیک سٹی جانے والی سڑک پر بھی روٹ اوور برج کی تعمیر کا منصوبہ تیا رکیا ہے اس پراجکٹ کو کوکٹ پلی فلائی اوور سے مربوط کرنے کا منصوبہ ہے جسے انتظامی منظوری کا انتظار ہے۔بنجارہ ہلز سے جوبلی ہلز روڈ نمبر 5 کے لئے زیر تعمیر نئی سڑک کا منصوبہ جائیداد کے تنازعہ کے سبب تعطل کا شکار ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران اس تنازعہ کو حل کرواتے ہوئے اس سڑک کی عاجلانہ تعمیر کو ممکن بنایا جائے گا۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے راما نائیڈو اسٹوڈیو سے سینور ویلی تک 120 فیٹ کشادہ سڑک کی تیاری کا منصوبہ تیا رکیا ہے جسے انتظامی منظوری حاصل ہوچکی ہے اور پراجکٹ کی فائل تکنیکی منظوری کے لئے روانہ کی جا چکی ہے توقع ہے کہ آئندہ ماہ کے دوران یہ منظوری بھی حاصل ہوجائے گی جس کے بعد جائیدادوں کے حصول کا عمل شروع کیا جائے گا۔بتایاجاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے ہائی ٹیک سٹی پہنچنے والے ملازمین کی سہولت کے علاوہ ان سڑکوں کا استعمال کرنیو الے شہریوں کی آمد و رفت کو بہتر بنانے اور ٹریفک سے پاک نظام کی فراہمی کو ممکن بنانے کیلئے یہ منصوبہ تیار کیا ہے اور اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے 1سا ل کی مدت کا تعین کیا گیا ہے تاکہ ان کاموں کی عاجلانہ تکمیل کے ذریعہ شہر کے ٹریفک نظام کو درست کیا جاسکے۔ان پراجکٹس کے علاوہ شلپا لے آؤٹ‘ گچی باؤلی‘ اور گچی باؤلی جنکشن تک 120 فیٹ چوڑی سڑک کی تعمیر کے سلسلہ میں منصوبہ تیار کیا جاچکا ہے اور اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جائیدادیں بھی حاصل کی جانے لگی ہے اور اس سڑک کے تعمیری کاموں کا آئندہ دو یا تین ماہ کے دوران آغاز ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT