Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹریفک اژدھام کی وجہ ایمبولنس سب سے زیادہ متاثر ، مریضوں کو مشکلات

ٹریفک اژدھام کی وجہ ایمبولنس سب سے زیادہ متاثر ، مریضوں کو مشکلات

حیدرآباد ۔ 4 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی اہم سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک کے سبب ایمبولنس کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اہم سڑکوں پر ٹریفک جام کے باعث کبھی کبھی ایمبولنس بھی گھنٹوں ٹریفک میں پھنس جاتی ہے جس کے منفی نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ کئی علاقوں سے ایمبولنس سرویس کو شہر کے اہم دواخانوں تک پہنچن

حیدرآباد ۔ 4 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی اہم سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک کے سبب ایمبولنس کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اہم سڑکوں پر ٹریفک جام کے باعث کبھی کبھی ایمبولنس بھی گھنٹوں ٹریفک میں پھنس جاتی ہے جس کے منفی نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ کئی علاقوں سے ایمبولنس سرویس کو شہر کے اہم دواخانوں تک پہنچنے میں بے انتہا دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب مریض کی حالت تشویشناک ہو اور وہ ایمبولنس کے ذریعہ ہنگامی حالات میں دواخانہ پہنچنا چاہتا ہو اگر اس وقت شہر کی ٹریفک میں ایمبولنس پھنس جائے تو اس کے نتائج کچھ بھی برآمد ہوسکتے ہیں ۔ شہر میں جاری میٹرو ریل کے کاموں کے سبب شہر کی اہم سڑکوں پر ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے اور موٹر سیکل راں و موٹر نشین ٹریفک جام میں پھنسنے سے بچنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش میں ٹریفک نظام کو تباہ کرنے کے مرتکب بن رہے ہیں ۔ دونوں شہروں میں حکومت کی جانب سے 108 ایمبولنس سرویس چلائی جاتی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں کی دواخانہ منتقلی کو یقینی بنایا جاسکے ۔ لیکن اس کے علاوہ خانگی و کارپوریٹ دواخانوں کے ایمبولنس بھی سڑکوں پر دوڑتے نظر آتے ہیں اور بعض ایمبولنس میں معصوم بچے دواخانہ منتقل کئے جارہے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی انہیں سڑک پر کوئی راستہ نہیں دیا جاتا ۔ گذشتہ دنوں محکمہ پولیس کے شعبہ ٹریفک کی جانب سے سڑکوں پر ایمبولنس کو راہ فراہم کرنے سے متعلق شعور بیداری مہم چلائی گئی تھی لیکن اس کے کوئی مثبت اثرات برآمد نہیں ہوئے ۔ ٹریفک پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک عوام میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک حالات کو تبدیل کیا جانا دشوار ہے ۔

بعض عہدیدار اس صورتحال کے لیے سڑکوں کی ناہمواری کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہیں کہ شہر کی سڑکیں بہتر نہ ہونے کے سبب ٹریفک میں خلل پیدا ہوتا ہے اور اسی خلل کے باعث ایمبولنس یا کسی اور ہنگامی خدمات کی گاڑیوں کو باآسانی گزرنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ دن کے معروف اوقات کی ٹریفک کے علاوہ رات کے اوقات میں شہر کی سڑکوں پر بے ہنگم چلنے والی مال بردار لاریاں ایمبولنس کے لیے رکاوٹ بنتی ہیں ۔ ایک عہدیدار نے واضح طور پر کہا کہ چند برس قبل شہر میں مال بردار گاڑیوں کے داخلہ پر مکمل امتناع عائد کردیا گیا تھا جس کی بنیادی وجہ حادثات اور شہر کی سڑکوں پر مال بردار گاڑیوں کے گزرنے سے پیدا ہونے والی خرابی تھی ۔ لیکن چند ماہ بعد اقتدار کی تبدیلی نے شہر میں نافذ کئے گئے امتناعی احکام کو بھی بدل کر رکھ دیا اور لین دین عام ہوتا گیا اور اب رات کے اوقات میں لاریوں کو روکنے کی کوشش بھی نہیں کی جارہی ہے ۔ ایمبولنس کو راستہ فراہم کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے لیکن جب شہری سڑک پر خود بھی اس حالت میں پھنسا ہوا ہو کہ وہ کچھ کرنے سے قاصر ہے تو ایسی صورت میں کسے ذمہ دار قرار دیا جائے ۔ ایمبولنس ڈرائیورس کے ایک گروپ سے ملاقات پر ڈرائیورس نے بتایا کہ شہر کی ٹریفک سے وہ عاجز آچکے ہیں چونکہ ایمبولنس کی لائٹ اور سائرن کو دیکھنے اور سننے کے بعد بھی کئی مرتبہ راستہ فراہم نہیں کیا جاتا بلکہ ایمبولنس کی آڑ میں تیز رفتاری سے نکلنے کی کوشش کی جانے لگتی ہے جس کے سبب ایمبولنس کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان ڈرائیورس نے بتایا کہ شہر کے نواحی علاقوں سے مریض کی دواخانہ منتقلی شہری علاقوں سے منتقلی کی بہ نسبت آسان نظر آرہی ہے چونکہ آوٹر رنگ روڈ وغیرہ کے استعمال کے ذریعہ شہر میں باآسانی داخل ہوسکتے ہیں لیکن شہر کی ٹریفک میں جب تک ایمبولنس کو راستہ فراہم کرنے کا احساس نہیں ہوگا اس سے مریضوں کی مشکلات کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے شہر کے ایک کارپوریٹ ہاسپٹل نے بائیک ایمبولنس کا آغاز کیا تھا جس کے ذریعہ بروقت طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی تھی لیکن یہ سرویس بھی ناکام ثابت ہوئی ۔ شہر میں ایمبولنس کو راستہ فراہم کرنے کے لیے باضابطہ بڑے پیمانے پر شعور بیداری مہم چلائے جانے کی ضرورت ہے اور اس خصوص میں ٹریفک پولیس کے علاوہ ہاسپٹلس اور غیر سرکاری تنظیموں کو آگے آتے ہوئے مہم میں حصہ لینا چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT