Wednesday , September 26 2018
Home / جرائم و حادثات / ٹریفک چالانات کی بروقت عدم ادائیگی پر عدالتی مقدمات

ٹریفک چالانات کی بروقت عدم ادائیگی پر عدالتی مقدمات

حیدرآباد /5 فروری ( سیاست نیوز ) زیر التواء ٹریفک چالانات کی وصولی کیلئے ٹریفک پولیس حیدرآباد کی جانب سے شروع کردہ خصوصی مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے ۔ جرمانوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں پولیس چالانات کی تفصیلات کو رجسٹری پوسٹ کے ذریعہ روانہ کر رہی ہے اور ایک ہفتہ کی مہلت دیتے ہوئے عدم ادائیگی کی شکل میں مسئلہ کو عدالت سے رجوع ک

حیدرآباد /5 فروری ( سیاست نیوز ) زیر التواء ٹریفک چالانات کی وصولی کیلئے ٹریفک پولیس حیدرآباد کی جانب سے شروع کردہ خصوصی مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے ۔ جرمانوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں پولیس چالانات کی تفصیلات کو رجسٹری پوسٹ کے ذریعہ روانہ کر رہی ہے اور ایک ہفتہ کی مہلت دیتے ہوئے عدم ادائیگی کی شکل میں مسئلہ کو عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق عدالت میں ٹریفک پولیس چارج شیٹ داخل کرے گی ۔ اس خصوص میں شہر کے ٹریفک سربراہ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس ٹریفک مسٹر جتیندر نے بتایا کہ عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے کے تحت 20 ہزار چالانات کو روانہ کیا جائے گا اور ان 20 ہزار کیسوں میں تقریباً دیڑھ لاکھ چالانات کی موجودگی کا امکان ہے ۔ ٹریفک سربراہ نے بتایا کہ ان چالانات کو مرحلہ وار سطح پر تکمیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو بھی کوئی مشکلات پیش نہ آئیں ۔ ٹریفک پولیس اپنے کام کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سہولت کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ شہرمیں ٹریفک کے بہاؤ کو آسان بنانے کیلئے ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ بالخصوص غیر مجاز پارکنگ کے خلاف بھی عنقریب نئی مہم شروع کی جائے گی ۔ فٹ پاتھ پر قبضہ اور کاروباری افراد کی جانب سے سڑک کو من مانی استعمال کرنے کے سبب ٹریفک جام کی شکایت کو دور کرنے کیلئے عنقریب حکمت عملی تیار کی جائے گی اور اس پر عمل آوری ہوگی ۔ انہوں نے بتایا کہ زیر التواء ٹریفک جرمانوں کی وصولی کے ساتھ ساتھ ایسے عملہ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جن کا عوام کے ساتھ رویہ درست نہیں ہوتا اور وہ اپنی خدمات میں تساہلی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ چالانات اور ٹریفک کے زیر التواء چالانات کی وصولی کی خصوصی مہم میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے انسپکٹرس کی نشاندہی کی جارہی ہے اور بہت جلد ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT