ٹرینوں میں سربراہی آب کی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش

ذخائر آب کی تعمیر کی تجویز ، ڈی آر ایم ارون کمار کا بیان
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : شہر سے دیگر ریاستوں کو جانے والی ریلوں کو پانی سربراہی ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے اور اس مسئلہ کے حل کے لیے ساوتھ سنٹرل ریلوے حیدرآباد ڈیویژن کے عہدیداران اقدامات کررہے ہیں اور اسی مناسبت سے کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن میں موجود پانی کے ذخائر کے علاوہ مزید دو پانی کے ذخائر کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ اکثر اوقات مسافرین کو ٹرینوں میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات پیش آتی ہیں ۔ کرناٹک ، ٹاملناڈو ، کیرالا ، آندھرا پردیش اور گوا سے روزانہ کئی ایکسپریس اور پاسنجر ریلیں کاچی گوڑہ اسٹیشن سے ہوتے ہوئے اترپردیش ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا ، گجرات، راجستھان ، اڈیسہ ، جھارکھنڈ اور دہلی کو روانہ ہوتیں ہیں اور کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن میں اے پی ، کرناٹک ، سمپرک کرانتی ، امراوتی اور دیگر ایکسپریس ریلوں کے علاوہ کئی پیاسنجر ریلیں پانی لینے کے لیے رکتی ہیں اور ان تمام ریلوں میں روزانہ لاکھوں لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ اسٹیشن پلاٹ فارم ، انٹر سٹی اکولا ، بنگلور ، چینائی یگمور ، بنگلور ، ٹاٹا نگر ، کاکی ناڈا پورٹ ، خصوصی ریلوں کی بوگیوں کی صفائی کے لیے بھی روزانہ لاکھوں لیٹر پانی کی ضرورت پڑتی ہے ۔ علاوہ ازیں اسٹیشن میں مسافرین کی ضروریات کے لیے بھی پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ فی الحال کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن میں 8 لاکھ لیٹر اور ایک لاکھ لیٹر کی اوور ہیڈ ٹینکس ہیں جو کہ ناکافی ہیں ۔ ڈی آر ایم ارون کمار جین اور اے ڈی آر ایم ( انفرا ) سائی پرساد نے بتایا کہ اسٹیشن کے ری سائیکلنگ پلانٹ کے پاس 4 لاکھ لیٹرس اور 1.50 لاکھ لیٹرس کے دو اوور ہیڈ ٹینکس تعمیر کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان دونوں ٹینکوں کی تعمیر سے ریلوں میں پانی کی فراہمی میں ہونے والی مشکلات کا خاتمہ ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ضروریات کی تکمیل بھی کی جاسکتی ہے اور ان دونوں ٹینکوں کی تعمیر کے لیے 3.72 کروڑ کی تخمینی لاگت کا اندازہ لگایا گیا ہے اور عنقریب ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے اور تخمینی رقم سے کم خرچ میں تعمیر کی ذمہ داری لینے والے کنٹراکٹرس کو کام حوالے کیا جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT