Monday , September 24 2018
Home / ہندوستان / ٹریڈ یونینوں کی 2 ستمبر کو ہڑتال کی اپیل کا امکان

ٹریڈ یونینوں کی 2 ستمبر کو ہڑتال کی اپیل کا امکان

نئی دہلی ۔25 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی حمایت یافتہ بھارتیہ مزدور سنگھ (بی ایم ایس) امکان ہے کہ 2 ستمبر کو عام ہڑتال کی اپیل کریںگی تاکہ حکومت کی مختلف پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا جائے اور 10 نکاتی ایجنڈہ کے بارے میں بے حسی کے اظہار اور من مانی مزدور اصلاحات کے خلاف احتجاج کیا جاسکے۔ عام ہڑتال کا اعلان جو 2 ستمبر کو ایک روزہ ہوگی، توقع

نئی دہلی ۔25 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی حمایت یافتہ بھارتیہ مزدور سنگھ (بی ایم ایس) امکان ہے کہ 2 ستمبر کو عام ہڑتال کی اپیل کریںگی تاکہ حکومت کی مختلف پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا جائے اور 10 نکاتی ایجنڈہ کے بارے میں بے حسی کے اظہار اور من مانی مزدور اصلاحات کے خلاف احتجاج کیا جاسکے۔ عام ہڑتال کا اعلان جو 2 ستمبر کو ایک روزہ ہوگی، توقع ہے کہ کل کیا جائے گا جبکہ مرکزی ٹریڈ یونینوں کا قومی کنونشن منعقد ہوگا۔ 11 ٹریڈ یونینیں بشمول بی ایم ایس متفق ہیںکہ ایک روزہ ہڑتال کی جائے تاکہ حکومت کی من مانے مزدور اصلاحات اور 10 نکاتی مزدور تنظیموں کے منشور پر بے حسی کے رویے کے خلاف احتجاج کیا جاسکے۔ ایک ذریعہ نے کہا کہ مرکزی ٹریڈ یونینیں رسمی طور پر ایک روزہ ہڑتال 2 ستمبر کو کرنے کے بارے میں کل اعلان کریں گی۔ حکومت کی مزدور دشمن اور عوام دشمن پالیسیوں کے بارے میں اعلامیہ کل جاری کیا جائے گا۔ یونینوں کے احتجاج کے پیش نظر حکومت نے ایک بین وزارتی کمیٹی ہفتہ کے دن قائم کی ہیں تاکہ یونینوں کے نمائندوں سے 10 نکاتی منشور مطالبات اور دیگر مسائل پر کھل کر بحث کی جائے اور ان مسائل کی یکسوئی کیلئے اقدامات کی سفارش کی جائے۔ کمیٹی کے ارکان نے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی، وزیر لیبر بنڈارودتاتریہ ، وزیر برقی توانائی پیوش گوئل ، وزیر تیل دھرمیندر پردھان اور وزیر مملکت برائے دفتر وزیراعظم جتیندر سنگھ شامل ہیں۔ جاریہ ماہ کے اوائل میں وزارت محنت نے 12 مرکزی ٹریڈ یونینوں کا ایک اجلاس طلب کیا تھا تاکہ ان کے 10 نکاتی منشور اور مزدور قوانین میں بعض تبدیلیوں کے خلاف ان کے ذہنی تحفظات پر بات چیت کی جائے۔

دتاتریہ کے علاوہ گوئل اور پردھان نے ٹریڈ یونینوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ مرکزی ٹریڈ یونینوں کے 10 نکاتی ایجنڈہ بشمول حکومت سے قیمتوں میں اضافے اور بیروزگاری سے نمٹنے کے اقدامات کی خواہش کی گئی۔ مزدروں کیلئے سماجی صیانت ملک گیر سطح پر فراہم کرنے اور سرکاری زیر انتظام اداروں سے تخفیف سرمایہ کاری روک دینے کے مطالبات بھی 10 نکاتی منشور میں شامل ہیں۔ بعد ازاں یونینوں نے دو مزید مطالبے غیر ملکی سرمایہ کاری ریلویز اور دفاع کے شعبوں میں روک دینے کے مطالبات بھی شامل کئے۔ علاوہ ازیںقوانین محنت میں تبدیلیوں کو ’’من مانے‘‘ فیصلہ قرار دیا۔ یونینیں بعض مجوزہ قوانین محنت میں ترمیمات کی مخالفت کر رہی ہیں اور خدمات حاصل کرو اور برخاست کردو کی گنجائش رکھنے والی ترمیمات کی مخالف ہیں اس سے مزدور یونینیں خوف زدہ ہیں کہ موجودہ سماجی صیانت نیٹ ورک جو مزدوروں کو مختلف نوعیتوں سے حاصل ہے، برخاست ہوجائے گا۔مجوزہ صنعتی تعلقات مسودہ قانون 2015 ء کے بموجب 300 کارکنوں سے زیادہ رکھنے والے آجرین کو حکومت کی جانب سے تخفیف ، تالہ بندی اور معطلی کیلئے حکومت کی اجازت ضروری نہیں ہوگی۔ یہ مسودہ قانون ٹریڈ یونینیں قائم کرنے کے طریقہ کار کو بھی مزید سخت بناتا ہے ۔ جملہ کارکنوں کی 10 فیصد تعداد ٹریڈ یونین کے رجسٹریشن کے لئے بطور رکن موجود ہونا ضروری ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT