Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹماٹر نے کسانوں کو آنسو بہانے پر مجبور کردیا

ٹماٹر نے کسانوں کو آنسو بہانے پر مجبور کردیا

کسانوں کیلئے فصل کاٹنا مشکل ، عموماً 400 روپئے میں فروخت ہونے والی ٹرے کے 30 روپئے ملنا دشوار
حیدرآباد ۔ /19 فبروری (ایجنسیز) ٹماٹر کی کاشت کرنے والے کسانوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس سبزی کو لینے والا کوئی نہیں ہے ۔ کسان موجودہ فصل کو کاٹنے کے موقف میں نہیں ہیں ۔ ان کو لیبر اور نقل و حمل کی لاگت حاصل ہونا مشکل ہوگیا ہے ۔ حتی کہ اگر فصل کی کٹائی ہوبھی گئی تو جوں کی توں پڑی ہے کیوں کہ اس کو لینے والا کوئی نہیں ہے ۔ زیادہ منافع کی خاطر کسانوں نے فصل بڑھائی لیکن اب اس پر خرچ ہوئی لاگت بھی ملنا ممکن نہیں ہے ۔ کسان مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ پست ہمت کسانوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 20,000 روپئے فی ایکر معاوضہ ادا کرے ۔ اگر حکومت ان کی مدد کیلئے آگے نہ آئے تو ان کے پاس اقدام خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا ۔ اطلاعات کے مطابق  30 کلو کی ٹماٹر کی ٹرے جو 400 روپئے میں فروخت ہوا کرتی تھی اس کے 30 روپئے یا 40 روپئے بازار کی قیمت نہیں آرہی ہے ۔ کسانوں نے سرمایہ کاری کی واپسی میں ناکامی کا اظہار کیا ہے ۔ انہیں فی کلو کے لئے 1 روپیہ حاصل ہورہا ہے اور بعض اوقات تو اس کا نصف ہی حاصل ہورہا ہے ۔ اندراویلی ، گڈی ہتنور ،اچھوڈا ، بھینسہ ، لوکیش ورم منڈلس کے کسان ٹماٹر کی فصل پر اکثریتی بینکنگ کے ساتھ ترکاریوں کی کاشت کرتے ہیں ۔ ضلع میں 15,000 ایکرس اس فصل کے تحت ہیں ۔ ہر ایک کسان نے ایک ایکر پر اوسطاً 30,000 روپئے کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ فصل بڑھائی جائے اور 5000 روپئے فصل کے تحفظ پر علحدہ خرچ کئے ۔

TOPPOPULARRECENT