Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / ٹوئٹر کی اسلاموفوبیا کو زائل کرنے کی کامیاب مساعی، صارفین کا پرجوش حصہ

ٹوئٹر کی اسلاموفوبیا کو زائل کرنے کی کامیاب مساعی، صارفین کا پرجوش حصہ

مسلمانوں سے تعلقات استوار کرنے نئے ’’ہیاش ٹیگ‘‘ ’’ٹاک ٹو اے مسلم‘‘ متعارف

نئی دہلی۔18 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے وقت جبکہ دنیا میں بین مذاب اختلافات سے کشمکش اور بے چینی اور نارکی پھیل رہی ہے، سوشل میڈیا نے اپنے نئے ہتھیار کے ذریعہ ہندوستان کی مشہور روایت کثرت میں وحدت‘‘ کو مضبوط اور استاور کرتے ہئوے ایس پھیلانے کی کامیاب کوش کی ہے۔ ’’ٹاک ٹو اے فرینڈ‘‘ کے ٹوئٹر پر متعارف ہونے پر صارفین میں جوش و خروش بڑھ گیا۔ جس میں قابل ذکر سورا بھاسکر گوہر خان رعنا صفوی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈلس پر اپنی سوچ کو دوسروں کے ساتھ شریک کیا۔ ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ہندوستان محبت اور امن کے لیے کھرا ہے۔ دوسری ٹوئٹ میں مسلمانوں سے بات چیت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ سوارا بھاسکر نے رعنا صوفی کے خیالات کو شیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہندوستان بہترین تہذیب و ثقافت جس میں مسلمانوں سے بات چیت کے بشمول سب کچھ شامل ہے۔ رعنا صفوی نے ٹوئٹر ہینڈل پر پوسٹ کیا کہ ہاں! میں ہندوستانی مسلم ہوں۔ میں اپنی زندگی میں خوش ہوں، میک آپ سے ولیم شیکسپیئر، مرزا غالبؔ، میرا بائی، مغل (بادشاہوں) کے بارے میں اور ہندوستان کی جنگ آزادی پر بات چیت اور اپنے خیالات برملا اظہارک رسکتی ہوں۔‘‘ گوہر خان نے ٹوئٹر کے اس ہیاش ٹیگ کی ستائش کرتے ہوئے لکھا کہ اس ہیاش ٹیگ کے آنے سے پہلے میں مسلمانوں کے کسی قائد یا عام مسلمان سے بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ لیکن ایک بات میں میرا ذہن بالکل صاف ہے کہ مذہبی اعتبار سے میں مسلم ہوں اور دلی طور پر میں ’’ہندوستانی‘‘ پہچان رکھتی ہوں۔ مزید ایک ٹوئٹر صارف نے بہترین بات شیر کی، لکھا کہ تقسیم اختلافات ختم کرو اور متحد رہنے کا آغاز کرو۔میں، قطار میں کھڑے بالکل آخری آدمی کے ساتھ ہوں جس کا استحصال کیا گیا ہو، حاشیہ میں رکھ دیا گیا ہو۔ ان کا یقین کسی بھی مذہب یا دین پر ہو، اگر انہیں کوئی تکلیف ہو تو میں ان کی تکلیف کا مداوا کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔ واضح رہے کہ راہول گاندھی کے بیان پر جس میں انہوں نے ’’کانگریس، مسلمانوں کے ساتھ ہے، پر بی جے پی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس میں بقول بی جے پی کے 11 جولائی کو انہوں نے مسلم مشاہرین سے ملاقات کی تھی۔ 12 جولائی کو اردو اخبار ’’انقلاب‘‘ نے ایک سر بنائی تھی ’’کانگریس، مسلم پارٹی ہے‘‘ بی جے پی اس سرخی و خبر کو بنیاد بناکر راہول گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 2019ء کے عام انتخابات میں اقلیتوں کو اپنی طرف رجھانے کی کوشش ہے جسے کانگریس پارٹی نے رپورٹ کو سرمویکسر مسترد کردیا تھا اور اخبار کی رپورٹ کو دروغ گوئی پر مبنی کہا تھا۔ واضح رہے کہ ’’ٹاک ٹو اے مسلم‘‘ لندن میں زوروشور سے جاری پنش اے مسلم ڈے‘‘ کے جواب میں آغاز کیا گیا جو مشرقی لندن، مڈلینڈ اور یارک شائر میں ماہ مئی میں ہوئی تھی جو نہایت خفیہ رکھی گئی تھی۔ یہ اطلاع میڈیا رپورٹس سے حاصل ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT