Saturday , December 15 2018

ٹٹولی گاؤں میں تعصیبیت کا معاملہ : ہندوستانی آئین کے مطابق کسی پر کوئی فیصلہ زبر دستی تھوپا نہیں جاسکتا : پروفیسر یوگیندر یادو 

میوات : روہتک ضلع کے ٹٹولی گاؤں میں پنچایت کے ذریعہ مسلمانو ں کو عوامی مقامات پر نماز نہ پڑھنے ، ٹوپی نہ پہننے او ربچوں کے نام اپنی مرضی سے نہ رکھنے کی شرطیں تھوپنے والا فیصلہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ یہ فیصلہ جہاں غیر قانونی ہے وہیں انسانی حقوق کی مبینہ طور پر خلاف ورزی اور ہندوستان تہذیب اورخیالات پر گہری چوٹ ہے ۔ اس لئے اس طرح کا فیصلہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتا ۔ ان خیالات کا اظہار سورج انڈیا کے صدر پروفیسر یوگیندر یادو نے کوسلی میں منعقدہ مہا پنچایت میں کیا

۔ یادو نے سرکاری طور ایسے افراد کی شناخت کر کے انہیں فوری گرفتار ی کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے آئین کے مطابق جمہوریت سکولرزم پر یقین رکھنے والا ملک ہے ۔جہاں ہر شہری کو معاشی ، سماجی او رسیاسی انصاف ملنا یقینی بنایاجاناہی اصل ہے ۔ واضح رہے کہ ضلع روہتک ہریانہ کے گاؤں ٹٹولی گاؤں میں پنچایت کے ذریعہ فیصلہ لیاگیا تھا کہ مسلمان عوامی مقامات پر نماز نہیں پڑھیں گے اورٹوپی نہیں پہنیں گے ۔

فارسی اور اردو میں نام رکھنے کے بجائے ہندی میں اپنے بچوں کے نام رکھیں ۔ یہ فیصلے ۱۰ ؍ ستمبر کو اخبارات میں شائع ہوئے تھے ۔ اس پور ے معاملے میں پولیس کی خاموش بیٹھنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یوگیندر یادو نے کہا کہ ا س پولیس کو چاہئے تھا کہ اس معاملہ کو تحقیقات کرے ۔اگر یہ خبر سچی ہے تو قانونی کارروائی کرے اور اگر یہ خبر جھوٹی ہے تو ان افراد کے خلاف کارروائی کرے ۔ انہوں نے ریاستی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خبر میں شائع شدہ معاملو ں کی فوری جا نچ کروائیں او رخاطیوں کے خلاف جلد از جلد کارروائی کی جائے ۔ او راس طرح کے فیصلے تھوپنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT