Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹکنالوجی سے مربوط نظام حکومت بنانے موثر اقدامات

ٹکنالوجی سے مربوط نظام حکومت بنانے موثر اقدامات

کرپشن کو ختم کرنے ٹکنالوجی کا استعمال ضروری ، چندرا بابو چیف منسٹر اے پی
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ روایتی نظام حکمرانی سے ریاستی حکومت کو ٹکنالوجی سے مربوط نظام حکومت بنانے کے لیے موثر اقدامات کئے جائیں گے اور ٹکنالوجی کی مدد سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے بہتر سے بہتر اور شفاف حکومت ( حکمرانی ) فراہم کرنے کے لیے دن رات محنت کرنے میں وہ ’ جٹے ‘ ہوئے ہیں ۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ کرپشن کی بیماری بعض افراد میں پائی جاتی ہے اور اس کرپشن کی بیماری کو کم کرنے ( کرپشن کو دور کرنے ) کے لیے ٹکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے بتایا کہ سرکاری محکمہ جات میں کرپشن کے رجحانات کو کم کرنے اور حکومت کے فلاح و بہبودی اقدامات میں مزید بہتری پیدا کرنے کے لیے ہی ’ یکسوئی پلیٹ فام ‘ کے نام سے 1100 کال سنٹرس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ چیف منسٹر نے واضح طور پر کہا کہ اس کے ذریعہ بہتر نتائج حاصل ہورہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مفت ریت و شراب پالیسی ، بیلٹ شاپس اور وشاکھا پٹنم میں اراضیات پر غیر مجاز قبضوں کے مسئلہ پر سٹ SIT اور ٹاون پلاننگ جیسے موضوعات پر عوام سے مکمل معلومات حاصل کر کے ان کی طمانیت سطح کی نشاندہی کرلی گئی اور ان سے شکایتیں یا یادداشتیں حاصل کر کے مسائل کی یکسوئی کے لیے آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے محکمہ جات بہتر انداز میں نمٹ رہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ وشاکھا پٹنم میں پٹہ جات اراضی کی تقسیم کے تعلق سے چند عہدیداروں کی جانب سے کرپشن کا مطالبہ کرنے کے مسئلہ پر مکمل تحقیقات کروانے کے احکامات جاری کئے گئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مسائل کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کر کے بہتر حکمرانی فراہم کی جارہی ہے اور ریت کی غیر مجاز منتقلی کا تدارک کرنے سی سی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی جارہی ہے ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے بین ریاستی ٹرانسپورٹ سے متعلق اگر کوئی بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف پی ڈی ایکٹ کے تحت کیس درج کر کے جیل بھیج دینے کا سخت انتباہ دیا ۔ چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے مزید کہا کہ عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے والی شراب کی فروخت کے خلاف حکومت سخت اقدامات کرے گی اور رہائشی علاقوں میں پائی جانے والی شراب کی دکانوں کو بھی برخاست کردیا جارہا ہے ۔ علاوہ ازیں ریاست آندھرا پردیش کے لیے مختص کئے جانے والے پانی کے حصہ کو حاصل کرنے کے لیے کہیں کوئی سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جائے گا اور اگر ضرورت پڑنے پر عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT