Saturday , April 21 2018
Home / جرائم و حادثات / ٹکنالوجی کے دور میں بغیر ٹکنالوجی کے قتل کا ملزم گرفتار

ٹکنالوجی کے دور میں بغیر ٹکنالوجی کے قتل کا ملزم گرفتار

انسپکٹر پولیس محمد وحید الدین کی کارکردگی کی ستائش، ڈی سی پی ویسٹ زون کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/7 اپریل، ( سیاست نیوز) سیل فون ، سی سی ٹی وی کیمروں اور ٹکنالوجی کے استعمال کے بغیر ان دنوں پولیس کے لئے کسی بھی کیس کی یکسوئی اور اس میں کامیابی ممکن نہیں لیکن ایس آر نگر پولیس نے ایسا کردکھایا کہ بغیر سیل فون، ٹاور لوکیشن اور ٹکنالوجی کو استعمال کئے بغیر ایک سنسنی خیز قتل کیس کو حل کرتے ہوئے قاتل کو گرفتار کرلیا۔یہ بات ڈپٹی کمشنر پولیس ویسٹ زون مسٹر اے آر سرینواس نے بتائی جو آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے مخاطب تھے۔ انہوں نے ایس آر نگر پولیس انسپکٹر محمد وحید الدین کی ستائش کی۔2 اپریل کو بورا بنڈہ کے علاقہ میں25 سالہ خاتون سومیہ کا قتل کرنے کے بعد اس کی نعش کو جلادیا گیا تھا۔ پولیس کے لئے اس خاتون کے قاتل کو گرفتار کرنا ایک چیلنج بن گیا تھا۔ کسی بھی زاویہ سے تحقیقات میں پولیس کو کوئی سراغ دستیاب نہیں ہوا۔ حالانکہ گرفتار قاتل 28 سالہ پی پرکاش انتہائی چالاکی سے اپنے سیل فون کا استعمال کرتا تھا۔ آسام سے جب بھی وہ سومیہ سے ملنے آتا تو اپنے موبائیل فون کو حیدر نگر میں رکھ دیا کرتا تھا اور اس نے کبھی اپنی محبوبہ کو جو اس کے ساتھی کی بیوی تھی اپنے سیل فون سے بات نہیں کیا۔ مقتول خاتون سومیہ کا شوہر ناگا بھوشنم اور قاتل پرکاش ایک ہی کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ سال 2010 میں ڈچپلی کی ایک کنسٹرکشن کمپنی میں دونوں کو ملازمت ملی تھی اور ناگا بھوشنم ویزاک اور پرکاش انت پور کے ساکن متوطن تھا۔ کمپنی نے دونوں کا تبادلہ آسام کردیا۔ اس دوران ناگا بھوشنم کی شادی سال 2012 میں ہوئی اور وہ اس کی بیوی کے ساتھ رہنے لگا اور پرکاش تنہا تھا۔ ڈیوٹی کے اوقات مختلف ہونے کے سبب پرکاش سومیہ کے قریب ہوا اور دونوں میں دوستی اور ناجائز تعلقات پیدا ہوگئے۔ سومیا شوہر کو اور پرکاش ساتھی کو دھوکہ دینے لگی۔ سال 2016 میں ناگا بھوشنم نے کمپنی میں ملازمت چھوڑدی اور ایل اینڈ ٹی میں ملازمت اختیار کرتے ہوئے حیدرآباد کا رُخ کیا اور میٹرو ریل میں خدمات انجام دینے لگا۔ اس شخص کی ملازمت ایک ہفتہ دن اور ایک ہفتہ رات میں رہتی تھی اور ہفتہ میں ایک مرتبہ پرکاش ناگا بھوشنم کو فون کرتا تھا جس کے سبب اس کی ملازمت کا اسے اندازہ ہوتا کرتا تھا۔ اور بغیر کسی اطلاع کے بورا بنڈہ میں واقع اس کے ساتھی کے گھر پہنچ کر ساتھی کی بیوی کے ساتھ عیاشی کرتا اور چلاجاتا تھا۔ 30 مارچ کو دونوں کا آمنا سامنا ہوا اور دونوں نے ناگا بھوشنم کے مکان میں مہ نوشی کی۔ 2 اپریل کو قاتل اس کی محبوبہ کے مکان پہنچا اور عیاشی کے بعد رقم طلب کی تاہم خاتون کی جانب سے انکار پر اس کا قتل کردیا اور اس کی نعش کو جلاکر فرار ہوگیا۔ پولیس نے بالآخر بغیر ٹکنالوجی کے اس سنسنی خیز قتل کیس کو حل کرلیا۔

TOPPOPULARRECENT