ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ خوشدلی سے قبول کیا جائے

نئی دہلی۔23مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) جسونت سنگھ کی جانب سے بحیثیت آزاد امیدوار لوک سبھا حلقہ بارمر سے مقابلہ کے فیصلہ پر بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ انہیں پارٹی کے ٹکٹ نہ دینے کے فیصلے کو خوشدلی کے ساتھ قبول کرنا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب پارٹی سے کافی مراعات اور عہدے حاصل ہونے کے بعد وفاداری جانچنے کا مرحلہ آتا ہے تو اُس وقت کامی

نئی دہلی۔23مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) جسونت سنگھ کی جانب سے بحیثیت آزاد امیدوار لوک سبھا حلقہ بارمر سے مقابلہ کے فیصلہ پر بی جے پی لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ انہیں پارٹی کے ٹکٹ نہ دینے کے فیصلے کو خوشدلی کے ساتھ قبول کرنا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب پارٹی سے کافی مراعات اور عہدے حاصل ہونے کے بعد وفاداری جانچنے کا مرحلہ آتا ہے تو اُس وقت کامیابی اہم ہوتی ہے ۔ جیٹلی نے جسونت سنگھ پر بالواسطہ تنقید اُس وقت کی جب کہ وہ بی جے پی کی جانب سے ٹکٹ نہ ملنے کے بعد بحیثیت آزاد امیدوار کل پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے ہیں ۔ ایک دن قبل سینئرپارٹی لیڈر سشما سوراج نے کہا تھا کہ جسونت سنگھ کو ٹکٹ نہ ملنے پر انہیں کافی تکلیف پہنچی ۔ اس طرح پارٹی میں جاری اختلافات منظر عام پر آچکے ہیں ۔ ارون جیٹلی نے ویب سائٹ پر لکھا کہ کسی سیاسی جماعت کی رکنیت سازی ایک اعزاز ہے ۔

ساتھ ہی یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ہمیں شخصی رائے اور عزائم کو نظرانداز کرتے ہوئے پارٹی کی اجتماعی کامیابی کیلئے کام کرنا ہے ۔ بسااوقات پارٹی میں رہتے ہوئے قائدین کو کئی مراعات اور عہدے حاصل ہوتے ہیں ۔ دوسری طرف کسی لیڈر کو اس کی خواہش کے برعکس نفی میں جواب ملتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاستداں یا لیڈر کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ مسکراہٹ کے ساتھ قبول کرنا چاہیئے ۔ یہ دراصل اس کی وفاداری اور ڈسپلن کا امتحان ہوتا ہے ۔ ایسے موقع پر صبر و تحمل اور خاموشی ہی ترجیحی راستہ ہے ۔ ضرورت سے زیادہ ردعمل ’’چائے کی پیالی میں طوفان ‘‘ ثابت ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ خاموشی باوقار اور بہتر ہوتی ہے ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کئی ملین سیاسی ورکرس کی تائید سے تیار ہوتی ہے جو کسی عہدہ کی خواہش یا لالچ کے بغیر اپنا وقت اور توانائی کی قربانی دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی سیاستداں کامیاب سیاسی کریئر کے بعد ایک مرتبہ ٹکٹ سے محروم کردیا جائے تو کیا ایسے وقت اسے پارٹی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا چاہیئے ؟ یہ ایسا وقت ہے جب اُس کے ڈسپلن اور سیاسی وفاداری کا امتحان ہوتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT