Saturday , November 18 2017
Home / کھیل کی خبریں / ٹیم انڈیا کے ستارے بلندی پر، بی سی سی آئی کے گردش میں

ٹیم انڈیا کے ستارے بلندی پر، بی سی سی آئی کے گردش میں

نئی دہلی، 22 دسمبر (یواین آئی) ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے ویراٹ کوہلی کی کپتانی میں 2016ء میں کامیابیوں کی بلندیوں کو چھوا اور دنیا کی نمبر ایک ٹسٹ ٹیم بننے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ ملک میں کرکٹ کو چلانے والی تنظیم ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) پورے سال تنازعات میں اُلجھ کر عدالت کے چکر لگاتی رہی ۔ ویراٹ کی کپتانی میں ٹیم انڈیا نے 2016ء میں ایک کے بعد ایک زبردست مظاہرے کیے اور سال کا اختتام دنیا کی نمبر ایک ٹیم کے طور پر کیا۔ ہندوستانی ٹیم مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی میں ملک میں ٹوئنٹی 20ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک پہنچی لیکن جہاں تک کھیل کے سب سے بڑے فارمٹ کی بات ہے تو ٹیم انڈیا کی کارکردگی شاندار رہی اور اس نے سیریز میں مسلسل جیت حاصل کی۔ ہندوستان کو اس سال بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نوجوان اسٹار کھلاڑی ملے جن میں کرون نائر کا نام سب سے اوپر لیا جا سکتا ہے جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف چینائی میں ناٹ آؤٹ 303رنز کی تاریخی اننگز کھیلی اور ٹسٹ کرکٹ میں ٹرپل سنچری بنانے والے ویریندر سہواگ کے بعد دوسرے ہندوستانی کھلاڑی بن گئے ۔ سال 2016میں کپتان ویراٹ 1215 رنز بنا کر سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر رہے ۔ ویراٹ نے انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز میں 655رنز بنائے اور مین آف دی سیریز کا خطاب جیتا۔  ویراٹ نے انگلینڈ کے خلاف ٹسٹ سیریز چار۔صفر سے جیت کر سابق کپتان محمد اظہرالدین کی 14فتوحات کی بھی برابری کی اور ملک کے مشترکہ طور پر تیسرے سب سے کامیاب کپتان بنے ۔ آف اسپنر روی چندرن اشوین نے پورے سال بہترین گیند بازی کی اور 12 میچوں میں 72 وکٹ لے کر چوٹی کے گیندباز رہے ۔ ان کا یہ ریکارڈ اس سال برقرار رہے گا کیونکہ کوئی دیگر گیندباز ان سے آگے نکلنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہندوستان کا مسلسل سیریز جیتنے میں اشون کی گیند بازی کا زبردست کردار رہا۔ انگلینڈ کے خلاف انہوں نے کل 28 وکٹ حاصل کئے اور دنیا کے نمبر ایک ٹسٹ گیندباز اور نمبر ایک ٹسٹ آل راؤنڈر بھی بنے۔ اشوین کے ساتھ لیفٹ آرم اسپنر رویندر جڈیجہ کی جوڑی خوب جمی۔ جڈیجہ نے اس سال نو ٹسٹ میچوں میں کل 43 وکٹ لئے ۔ انگلینڈ کے خلاف جڈیجہ نے چینائی میں آخری ٹسٹ میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور دوسری اننگز میں سات وکٹ لے کر ہندوستان کو اننگز اور 75 رنز سے جیت دلانے میں اہم رول ادا کیا۔

جڈیجہ نے اس سیریز میں کل 26 وکٹ حاصل کئے جس کی بدولت وہ ٹسٹ رینکنگ میں نمبر دو گیندباز اور نمبر تین آل راؤنڈر بن گئے۔ ہندوستانی ٹیم نے سال کی شروعات مسلسل ٹوئنٹی 20 مقابلے جیت کر کی۔ ہندوستان نے جنوری میں آسٹریلیا میں تین میچوں کی ٹوئنٹی 20 سیریز میں پہلی بار تین ۔صفر کی کلین سویپ کی۔ ہندوستان نے اس کے بعد بنگلہ دیش میں کھیلے گئے ایشیا کپ میں میزبان بنگلہ دیش کو شکست دے کر ایشیا کپ بھی جیتا۔اپنی میزبانی میں ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں ہندوستان نے مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز نے سات وکٹ سے جیت حاصل کرکے ہندوستان کو روکا ۔ ہندوستان نے زمبابوے میں ٹوئنٹی 20 سیریز دو۔ ایک سے جیت لی، لیکن امریکہ میں ورلڈ چمپئن ویسٹ انڈیز کے خلاف اسے دو میچوں کی سیریز میں 1-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک روزہ مقابلوں کی بات کی جائے تو ہندوستان نے جنوری میں آسٹریلیا میں ونڈے سیریز ایک ۔چار سے گنوائی، زمبابوے کو تین ۔صفر سے ہرایا اور نیوزی لینڈ کے خلاف وطن میں ونڈے سیریز تین ۔دو سے جیت لی۔ میدان سے باہر دیکھا جائے تو بی سی سی آئی کا تنازعات میں الجھے رہنا سال میں مسلسل بحث کا موضوع بنا رہا۔ششانک منوہر کے بورڈ صدر کا عہدہ چھوڑ کر آئی سی سی چیئرمین بننے کے بعد انوراگ ٹھاکر نے بورڈ کے صدر کی ذمہ داری سنبھالی اور یہ ان کے لیے کانٹوں کا تاج ثابت ہوا۔ سال کے آخر تک جاتے جاتے ٹھاکر کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت آ چکی ہے کہ اگر ان کا حلف نامہ جھوٹا ثابت ہوتا ہے تو انہیں یا تو معافی مانگنی ہوگی یا وہ جیل جائیں گے ۔  بی سی سی آئی نے لودھا کمیٹی کی اصلاح کی کئی سفارشات کو تسلیم کیا ہے لیکن اس نے عمر کی حد، ایک ریاست ایک ووٹ اور تین سالہ مدت کی سفارشات کی مخالفت کی ہے ۔ پورے سال یہ تنازعہ چلتا رہا اور نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی سیریز خطرے میں بھی پڑی جب بی سی سی آئی کے کھاتے منجمد کر دیے گئے تھے لیکن سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کو ریاستی اسوسی ایشن کو اتنا پیسہ جاری کرنے کی اجازت دی جن سے میچ منعقد ہو سکیں۔ عدالت نے ساتھ ہی کہا کہ ادائیگی براہ راست وینڈروں کو کی جائے گی۔ سال کے آخری مہینے دسمبر میں بی سی سی آئی کو سپریم کورٹ نے بڑا جھٹکا دیا اور بورڈ کی نظرثانی کی عرضی کے بعد اس کی کیوریٹو پٹیشن کو بھی منسوخ کر دیا جس سے دنیا کے سب سے امیر بورڈ کے پاس لودھا کمیٹی کی سفارشات کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

TOPPOPULARRECENT