ٹیم میں گروپ بندی اور اعتماد کے فقدان کے باعث کپتان تبدیل

نئی دہلی۔ 14 جون (سیاست ڈاٹ کام)ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں گروپ بندی اور کھلاڑیوں میں اعتماد کے فقدان کی وجہ سے سلیکشن کمیٹی 2012ء میں ہی ٹیم کی قیادت میں تبدیلی کی خواہاں تھی، اور اس وقت کے بی سی سی آئی کے صدر این سرینواسن نے کو سلیکشن کمیٹی نے اپنے منصوبہ سے آگاہ بھی کیا تھا۔ سابق سلیکٹر راجہ وینکٹ نے میڈیا نمائندوں سے اظہار خیال کرتے ہوئ

نئی دہلی۔ 14 جون (سیاست ڈاٹ کام)ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں گروپ بندی اور کھلاڑیوں میں اعتماد کے فقدان کی وجہ سے سلیکشن کمیٹی 2012ء میں ہی ٹیم کی قیادت میں تبدیلی کی خواہاں تھی، اور اس وقت کے بی سی سی آئی کے صدر این سرینواسن نے کو سلیکشن کمیٹی نے اپنے منصوبہ سے آگاہ بھی کیا تھا۔ سابق سلیکٹر راجہ وینکٹ نے میڈیا نمائندوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے ماضی کے اس منصوبہ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آسٹریلیا کے دورہ پر ہندوستان کے مایوس کن مظاہروں کے بعد سلیکشن کمیٹی ویراٹ کوہلی کو ٹیم کا کپتان بنانے کا منصوبہ رکھتی تھی کیونکہ ہندوستانی ٹیم کو اس وقت آسٹریلیا کے خلاف ٹسٹ سیریز میں 0-4 کی شکست برداشت کرنی پڑی اور چند ماہ کے دوران انگلینڈ کے خلاف بھی ٹیم کو ایسی ہی شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

2012ء ہی میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت تبدیل کرنے کا نظریہ سامنے آچکا تھا۔ وینکٹ نے مزید کہا کہ اُس وقت کی سلیکشن کمیٹی جس کی قیادت ٹیم کے سابق کپتان مہیندر امرناتھ کررہے تھے، اس نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ ٹیم کے اعتماد کو بلند کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ٹیم میں کوئی تازہ تبدیلی کی جائے اور سلیکٹروں کا یہ خیال تھا کہ مہیندر سنگھ دھونی کے مقام پر ویراٹ کوہلی کو کپتان بنادیا جائے۔ میڈیا نمائندوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے وینکٹ نے کہا کہ جب ٹیم ٹسٹ سیریز میں 0-3 سے پیچھے تھی، اس دوران میرے دو ساتھی سلیکٹر ٹیم کے ساتھ موجود تھے اور انہوں نے وطن واپسی کے بعد ان حقائق کا انکشاف کیا کہ ناکامیوں کی وجہ سے نہ صرف کھلاڑیوں کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے بلکہ کھلاڑی چھوٹے چھوٹے گروپ میں منقسم بھی ہوچکے تھے۔ اسی دوران سلیکٹروں نے دیکھا تھا کہ دیودھر ٹروفی میں ویراٹ کوہلی نے نارتھ زون کی ٹیم کی شاندار قیادت کی تھی اور سلیکٹروں کی خواہش تھی کہ ویراٹ کو سہ رخی سیریز کیلئے کپتان بنادیا جانا چاہئے جس کیلئے سلیکٹروں نے اس وقت کے بی سی سی آئی کے سیکریٹری سنجے جگدلے کو ان تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے صدر کو بھی مطلع کیا تھا تاکہ وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے سہ رخی سیریز کیلئے معلنہ ٹیم کے باوجود قیادت تبدیل کرے،

لیکن اس وقت کے بی سی سی آئی صدر نے یہ کہتے ہوئے اس منصوبہ کو مسترد کردیا تھا کہ سہ رخی سیریز کیلئے ٹیم کا پہلے ہی اعلان کیا جاچکا ہے اور قیادت کی تبدیلی نہ مناسب ہے۔ بی سی سی آئی کے قواعد کے مطابق سلیکٹروں کی جانب سے منتخب کی جانے والی ٹیم اور معلنہ کھلاڑیوں میں بورڈ کا صدر یہ اختیار رکھتا ہے کہ کوئی تبدیلی کی جاسکے۔ بنگال سے تعلق رکھنے والے بائیں ہاتھ کے سابق بیٹسمین اور ایسٹ زون کے سلیکشن پیانل کے موجودہ عہدیدار نے مزید کہا کہ جس وقت کوہلی کو کپتان بنانے کا منصوبہ بنایا جارہا تھا، اس وقت کوہلی کی عمر صرف 23 برس تھی اور سلیکٹروں کی نظر میں نوجوان کھلاڑی پر قیادت کا بوجھ ڈالنا زائد دباؤ ہوگا۔ دریں اثناء مہیندر امر ناتھ نے وینکٹ کے انکشافات پر لب کشائی سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ میڈیا میں پیش کیا گیا ہے، مَیں اس سے واقف نہیں۔

TOPPOPULARRECENT