Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / ٹیکساس میں طوفان ہاروی کی تباہ کاریوں کاسلسلہ جاری

ٹیکساس میں طوفان ہاروی کی تباہ کاریوں کاسلسلہ جاری

سڑکیں دریاؤں میں تبدیل ، مگرمچھ اور زہریلے سانپ گھروں میں داخل ، ٹرمپ کا آج دورہ

ہوسٹن ۔28 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی ریاست ٹیکساس میں تقریباً 13 ملین افراد طوفان ’’ہاروی‘‘ کی تباہ کاریوں کا سامنا کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں تاحال پانچ افراد ہلاک ہوگئیہیں۔ طوفانی ہواؤں کے ساتھ مسلسل بارش و سیلاب سے سڑکیں دریاؤں میں تبدیل ہوگئیں۔ کئی عمارتوں کو شدید نقصانات پہونچے ہیں۔ کئی برقی کھمبے اُکھڑ جانے سے ہزاروں گھر برقی سربراہی سے محروم ہوگئے اور اکثر علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ جو صدارتی عہدہ پر فائز ہونے کے بعد پہلی مرتبہ کسی ہولناک صوفان کا مشاہدہ کررہے ہیں کل متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے شخصی طورپر صورتحال کا جائزہ لیں گے ۔ ٹیکساس میں 13 سال کے دوران یہ بدترین طوفان ہے۔ ہوسٹن میں ہندوستانی قونصل خانہ نے کہاہے کہ سیلاب کے سبب ہوسٹن یونیورسٹی میں 200 سے زائد ہندوستانی طلبہ پانی میں محصور ہوگئے ہیں۔ ہوسٹن میں ہندوستانیوں کی قابل لحاظ آبادی ہے ۔ قومی ادارہ موسمیات نے کہا ہے کہ ٹیکساس میں 50 انچ سے زائد مجموعی بارش ریکارڈ کی گئی جو ایک ریکارڈ ہے ۔ اس ادارہ نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ طوفان کی یہ تشویشناک صورتحال اور اس کی تباہ کاریاں آئندہ چار دن تک جاری رہیں گی ۔ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اکثر شہروں کے اسکولوں ، کالجوں کو بند کردیا گیا ہے ۔ فضائی سرویس معطل کی جاچکی ہے ۔ گھنے درخت سڑکوں پر گرنے سے کئی اہم راستہ ناقابل عبور ہوگئے ہیں۔ اس بدترین آندھی و سیلاب سے نہ صرف لاکھوں انسان بلکہ جانور بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بالخصوص پانی کے کئی جانور آبادیوں میں آگئے ہیں اور زمین پر چلنے والے جانور اپنی جان بچانے سیلابی پانی میں تیرتے دیکھے گئے لیکن سب سے بڑی پریشانی زہریلے سانپوں اور خونخوار مگرمچھوں سے ہے جو اپنے لئے محفوظ ٹھکانے تلاش کرتے ہوئے گھروں میں داخل ہوئے ہیں۔ جس سے مکینوں میں خوف و ہراسانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے طوفان ہاروی کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے اقدامات پر غور کے لئے اپنی کابینہ کا آج دوسرا اجلاس طلب کیا ۔ ٹرمپ نے جنوبی ریاست لوسیانا میں بھی ہنگامی حالات کا اعلان کردیا جہاں طوفان ہاروی کے اثر سے ہونیو الی موسلا دھار بارش اور سیلاب سے عوام پریشان ہیں۔

TOPPOPULARRECENT