ٹیکس وصولی کا جائزہ لینے کابینی ذیلی کمیٹی‘ ورنگل میں پولیس کمشنریٹ کا قیام

حیدرآباد 5 مارچ ( سیاست نیوز)تلنگانہ ریاستی کابینہ نے پارلیمنٹ سکریٹریز کے تقرر دیگر ریاست میںٹیکسس کی پالیسیوں کے طریقہ کار کا جائزہ لینے وزیر کمرشیل ٹیکسس کی قیادت میں کابینی سب کمیٹی تشکیل دینے‘ ورنگل شہر میں پولیس کمشنریٹ کا قیام عمل میں لانے حکومت کے انتہائی اہمیت کے حامل انجام دیئے جانے والے واٹر گرڈ پروگرام سے متعلق آرڈی

حیدرآباد 5 مارچ ( سیاست نیوز)تلنگانہ ریاستی کابینہ نے پارلیمنٹ سکریٹریز کے تقرر دیگر ریاست میںٹیکسس کی پالیسیوں کے طریقہ کار کا جائزہ لینے وزیر کمرشیل ٹیکسس کی قیادت میں کابینی سب کمیٹی تشکیل دینے‘ ورنگل شہر میں پولیس کمشنریٹ کا قیام عمل میں لانے حکومت کے انتہائی اہمیت کے حامل انجام دیئے جانے والے واٹر گرڈ پروگرام سے متعلق آرڈیننس کی منظوری دی ہے۔ علاوہ ازیں 7 مارچ کو اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس کیلئے مرتب کردہ گورنر کے خطبہ کو کابینہ نے منظوری دیتے ہوئے 11 مارچ کو ریاست تلنگانہ کا سالانہ بجٹ قانون ساز اسمبلی میں پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ آج یہاں سکریٹریٹ میں چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راو کی صدارت میں ریاستی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جو کہ زائد از دو گھنٹوں تک جاری رہا ۔ اس کابینہ کے اجلاس میں تمام وزراء شریک تھے چونکہ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے بجٹ سیشن شیڈول سے متعلق اعلامیہ جاری ہوچکا ہے جس کی روشنی میں کابینہ کی روئیداد بشمول فیصلوں سے اخباری نمائندوں کو باقاعدہ طور پر واقف نہیں کروایا گیا۔ بتایا گیا کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راو نے کابینی رفقاء کو اسمبلی اجلاس میں مکمل معلومات و تفصیلات کے ساتھ شریک رہنے کی سخت ہدایت دیں کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کی کارکردگی کو ہدف ملامت بنانے اور سخت تنقیدوں کا نشانہ بنانے کا امکان ہے ۔ لہذا اس صورتحال سے انتہائی چوکس و چوکنا رہتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے الزامات و تنقیدوں کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیاری کے ساتھ اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے کی کابینی رفقاء و ارکان اسمبلی ٹی آر ایس کو ضروری ہدایات مسٹر کے چندر شیکھر راو نے دی ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ کابینہ کے اجلاس میں اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ نمٹنے کیلئے اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر بھی تفصیلی غور و خوص کیا گیا اور وزراء سے تبادلہ خیال کیا گیا اور وزراء کو چیف منسٹر نے بتایا کہ اس اسمبلی سیشن میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تنقیدوں و سوالات کی بوچھار ہونے والی ہے جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ اپنے اپنے محکمہ سے متعلق مکمل تفصیلات کے ساتھ اسمبلی سیشن میں شرکت کریں۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر نے وزراء کو واقف کروایا کہ بجٹ کے تعلق سے تلنگانہ ریاست کے عوام کئی ایک توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں جس کی روشنی میں ہی حکومت نے بھی بہت ہی اچھا اور عوام کیلئے قابل قبول بجٹ مرتب کیا ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راو نے کابینی رفقاء کو اس بات کا اشارہ دیا ہیکہ ریاست تلنگانہ کا سالانہ بجٹ ایک لاکھ کروڑ روپیوں سے بھی تجاوز کر جائے گا اور حکومت کی ترجیحات کے مطابق بجٹ میں رقومات مختص کی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ آج کے منعقدہ کابینہ اجلاس کیلئے صرف چار تا پانچ اہم موضوعات ہی ایجنڈہ میں شامل کئے گئے تھے بتایا جاتا ہیکہ کابینہ کے اجلاس میں کمرشیل ٹیکسس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا اور ٹیکسس کی وصولی کے معاملہ میں مایوسی کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر بتایا جاتا ہیکہ وزیر کمرشیل ٹیکسس نے مداخلت کر تے ہوئے کابینی رفقاء کو اس بات سے واقف کروایا کہ تاجرین کی جانب سے وقت پر ٹیکسس رقومات کی ادائیگی عمل میں نہیں آرہی ہے جس کے نتیجہ میں ہی ٹیکسس کی وصولی سست رفتاری سے جاری ہے لہذا کابینہ کے اجلاس میں کمرشیل ٹیکسس کے طریقہ کار میں مناسب تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس کیلئے دیگر ریاستوں میں ٹیکس کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کا بینی سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ علاوہ ازیں کابینہ نے موجودہ زرعی مارکٹ کمیٹیوں کو تحلیل کر کے نئی مارکٹ کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لانے کیلئے ہری جھنڈی دکھائی ہے ۔ بتایا جاتا ہیکہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راو نے دوران اسمبلی سیشن تمام ارکان کو بھی ایوان میں موجود رہنے اور وزراء کو بھی مکمل تیاری کے ساتھ اجلاس میں شریک ہونے کی ضروری ہدایات دی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT