Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / ٹیکنالوجی کے استعمال پر سرحدوں پر کھڑے رہنا نہیں پڑیگا: راجناتھ

ٹیکنالوجی کے استعمال پر سرحدوں پر کھڑے رہنا نہیں پڑیگا: راجناتھ

بیکانیر (راجستھان) 19 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہاکہ بارڈر سکیورٹی نے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقے استعمال کرنے کے بعد جن پر حکومت ہند کی جانب سے عمل کیا جارہا ہے، کسی سپاہی کو چوبیسوں گھنٹے وہاں سرحدوں کی حفاظت کے لئے ٹھہرنے کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ جامع مربوط سرحدی انتظامی نظام پر حکومت کی جانب سے عمل کیا جارہا ہے تاکہ سرحدی سلامتی میں مضبوطی پیدا کی جاسکے اور جموں میں بھی اِس سسٹم کے تحت پائلیٹ پراجکٹ شروع کیا گیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اِس طرح کے تکنیکی حل استعمال کئے جائیں جہاں باڑ لگی ہو، کیوں کہ یہ کچھ وقت کے بعد بوسیدہ ہوجاتی ہے۔ ٹیکنالوجی سے مربوط سسٹم سے مکمل بارڈر سکیورٹی یقینی ہوجائے گی۔ وہ یہاں بی ایس ایف کے جوانوں سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم اِس پر زیادہ سے زیادہ عمل کریں گے، اِس کے لئے کچھ وقت لگے گا لیکن ہمارے جوانوں کو سرحد کے تحفظ کی خاطر مسلسل 24 گھنٹے وہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ راجناتھ نے کہاکہ ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر ہوگا جہاں سے سپاہی سرحد پر ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھیں گے۔ اُنھیں معلوم ہوسکے گا کہ آیا کوئی درانداز ہندوستان میں گھس رہا ہے اور قریب ترین بارڈر آؤٹ پوسٹ کو کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کی جانب سے چوکس کردیا جائے گا اور اِس طرح سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیرداخلہ نے کہاکہ قوم کے عوام کو بی ایس ایف جوانوں پر بھروسہ ہے اور یہ حالیہ عرصہ میں تیزی سے بڑھا ہے۔ اُنھوں نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ پاکستانی رینجرس بی ایس ایف کے سبب پریشان رہتے ہیں۔ راجناتھ نے کہاکہ اُنھوں نے بی ایس ایف والوں کی سخت محنت دیکھی ہے جب وہ سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں اور نکسل اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بھی اپنے مفوضہ کام انجام دیتے ہیں۔ اُنھوں نے بی ایس ایف جوانوں سے کہاکہ آپ کا قومی احترام ہوتا ہے جس سے آپ کو حوصلہ ملتا ہے۔ یہی احساس رہا جس نے چندرشیکھر آزاد، بھگت سنگھ اور خودی رام بوس کو ملک کی آزادی کے لئے لڑنے کی تحریک بخشی۔ وہ ہتھیاروں کی پوجا یا شاستر پوجن کے بعد مخاطب تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر پڑوسی ملک ہتھیاروں کا استعمال روک دیتا ہے تو ہمیں بھی ہتھیاروں کو بروئے کار لانے کی ضرورت نہیں گی۔ دسہرے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہولے اُنھوں نے کہاکہ رام کی اِس موقع پر پوجا کی جاتی ہے اور راون سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے جو امیر طاقتور اور دانا تھا لیکن بدی کے کام کرتا تھا۔ سینئر بی ایس ایف آفیسرس بھی اِس موقع پر موجود تھے۔ وزیر موصوف سرحدی ضلع کے اپنے اِس دورے کے دوران ہند ۔ پاک سرحد کو بھی جانے والے ہیں۔ راجستھان کے 4 اضلاع بیکانیر، جیسلمیر، سری گنگا نگر اور بارمیر پاکستان کے ساتھ ہزارہا کیلو میٹر کی سرحد رکھتے ہیں جہاں حفاظتی کام بی ایس ایف کے ذمہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT