Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / ٹیگور اور گاندھی کے نظریات بہترین حربہ

ٹیگور اور گاندھی کے نظریات بہترین حربہ

اسٹاکہوم ۔ 2 جون (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گردی کو ایک سنگین چیلنج بین الاقوامی برادری کیلئے قرار دیتے ہوئے صدرجمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے آج کہا کہ صداقت، مذاکرات اور عدم تشدد کے نظریات جو رابندر ناتھ ٹیگور نے مہاتما گاندھی نے پیش کئے تھے۔ پیشرفت کا بہترین راستہ ہیں۔ مکرجی اپسلا یونیورسٹی میں خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی د

اسٹاکہوم ۔ 2 جون (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گردی کو ایک سنگین چیلنج بین الاقوامی برادری کیلئے قرار دیتے ہوئے صدرجمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے آج کہا کہ صداقت، مذاکرات اور عدم تشدد کے نظریات جو رابندر ناتھ ٹیگور نے مہاتما گاندھی نے پیش کئے تھے۔ پیشرفت کا بہترین راستہ ہیں۔ مکرجی اپسلا یونیورسٹی میں خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی درست تاریخ کا ہنوز تعین نہیں ہوسکا۔ دہشت گردی، مذہب، قومیت اور سرحد کا احترام نہیں کرتی۔ یہ صرف ایک ہی چیز پر یقین رکھتی ہے اور وہ ہے اندھادھند تباہی۔ آج دہشت گردی بین الاقوامی برادری کیلئے ایک سنگین چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار امن صرف انسانیت کے اقدار اور دانشوروں کی یکجہتی کے ذریعہ ممکن ہے کیونکہ سیاسی اور معاشی معاہدات پائیدار امن قائم نہیں کرسکتے۔ وہ ٹیگور اور گاندھی عصری حالات میں عالمی امن کیلئے کتنے کارآمد کے موضوع پر مخاطب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گرودیو ٹیگور کو یقین واصف تھا کہ عالمی امن اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ بڑی اور طاقتور اقوام ان کی خواہش برائے علاقائی توسیع کا خاتمہ نہ کردیں

اور چھوٹی اقوام پر قابو پانے کا خیال ترک کردیں۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ ٹیگور دانشور اور مذہبی مشعل بردار برائے عالمی امن تھے، مہاتما گاندھی ہوں یا کوئی اور عظیم شخصیت جس نے دنیا کو سچائی اور اہنسا کی طاقت سے واقف کروایا۔ وہ ایک منصفانہ دنیا تخلیق کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ سچائی، کھلاپن، مذاکرات، عدم تشدد جن کی سرپرستی ٹیگور اور گاندھی جی نے کی، پیشرفت کا بہترین راستہ پیش کرتے ہیں جبکہ موجودہ دنیا تصادم، تعصب، نفرت اور دہشت گردی کی دنیا بن گئی ہے۔ انہوںنے اسی شہ نشین سے تقریر کی جہاں سے کبھی نوبل انعام یافتہ شخصیت نے بھی 1931ء میں عوام کے استعمال سے خطاب کیا تھا۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ ان شخصیتوں کے نظریات آج پہلے سے زیادہ کارآمد ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں سائنس نے روحانیت سے ترک تعلق کرلیا تھا لیکن روحانیت کے بغیر سائنس ایک بے رخ جسم بن چکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT