Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس‘ سنگھ پریوار کی راہ پر ؟

ٹی آر ایس‘ سنگھ پریوار کی راہ پر ؟

حیدرآباد۔13اپریل ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے خیالات و حرکات تیزی سے زعفرانی تنظیموں سے ہم آہنگ ہوتے جارہے ہیں ؟ شہر حیدرآباد کے پڑوسی ضلع نلگنڈہ میں ہوئی پانچ مسلم نوجوانوں کی عدالتی تحویل میںہلاکت کے بعد حکومت کے طرز سے ابھی ریاست تلنگانہ کے سیکولر‘ امن پسند شہری اور مسلم طبقہ سنبھل نہیں پایا تھا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ایک قد آور قائد نے زہرافشانی کرنے والے ہندو توا قائدین کے طرز پر تقریر کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ درحقیقت ان کا نظریہ بھی وہی ہے جو نظریہ ہندوتوا قائدین کا ہے ۔ پریس کلب میں منعقدہ مہاتما جیوتی راؤ پھولے کی یوم پیدائش تقریب سے خطاب کے دوران مسٹر سوامی گوڑ نے ملک میں آبادی کے لحاظ سے ہندو سماج کو خطرہ قرار دیتے ہوئے انہیں چار بچے پیدا کرنے کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے صرف اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نظام کے خلاف بغاوت کرنے والوں کی تاریخ کو مٹانے کا مسلمانوں پر الزام عائد کیا ۔ ریاستی چیف منسٹر مسٹر این چندر شیکھر راؤ اور ان کی کابینہ میں شامل کئی وزراء سلطنت آصفیہ کے قصیدے پڑھتے ہیں لیکن اسی جماعت سے رکن قاون ساز کونسل منتخب ہوتے ہوئے دستوری عہدے پر فائز ہونے والے مسٹر سوامی گوڑ کی جانب سے نظام کے خلاف بغاوت کی تحریک چلانے والوں کی قصیدہ خوانی اس حقیقت کو آشکار کررہی ہے کہ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی درحقیقت ’’ مشن اکثریتی ووٹ ‘‘ پر مصروف ہے ۔ حکومت کا طرز طریقہ حکومت کا نظریہ ظاہر کرتا ہے لیکن اس حکومت کے نظریات سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت جہاں جاؤ وہاں کی بات کرو والی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ 17اپریل کو ہوئے مسلم نوجوانوں کے سفاکانہ قتل کے بعد حکومت کے دستوری عہدے پر فائز صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل کی جانب سے اس طرح کی تقریر محض ایک اتفاق نہیں ہوسکتی چونکہ مہاتما جیوتی راؤ پھولے کی یوم پیدائش تقریب میں بھارتیہ جنتا پارٹی قائد ایوان ڈاکٹر کے لکشمن بھی موجود تھے اور تلنگانہ راشٹریہ سمیتی و بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظام کے متعلق نظریات بالکلیہ طور پر متضاد ہیں لیکن جو باتیں مسٹر سوامی گوڑ نے کہی ہیں اس سے ایسا محسوس ہورہاہے کہ دو متضاد نظریات کی حامل سیاسی جماعتیں ایک ہوچکی ہیں اور چھوٹی جماعت طاقتور جماعت کے نظریات کو قبول کرنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے خطاب کے دوران ہندو سماج کو آبادی میں اضافہ کیلئے چار بچے پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے اس بات سے بھی آگاہ کرنے کی کوشش کی کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ہندو سماج کے خطرات میں اضافہ ہوجائے گا ۔ علاوہ ازیں سلطنت آصفیہ کے خلاف بغاوت کرنے والوں کی تاریخ کو دبانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کی تاریخ کو منظر عام پر لانے کی بات کہی ۔ اسدوران انہوں نے سلطنت آصفیہ کے خلاف بغاوت کرنے والے سردار سروپا پاپنا کا تذکرہ کیا ۔ چند ماہ قبل شرپسند سادھوی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ہندوؤں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ چار سے زائد بچے پیدا کریں جس پر نہ صرف ہندوستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر خواتین کی تنظیموں کی جانب سے ہنگامہ کھڑا کیا گیا تھا اور اب تو ریاست تلنگانہ میں دستوری عہدے پر فائز شخص کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے ۔ اس طرح کی تقاریر و بیانات سے حکومت کی پالیسی عیاں ہورہی ہے اور یہ بات سامنے آرہی ہے کہ حکومت ’’ مشن اکثریتی ووٹ ‘‘ پر گامزن ہے ۔

TOPPOPULARRECENT