Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس اور بی جے پی کی شکست کا آغاز کاکتیہ کے شہر ورنگل سے ہوگا

ٹی آر ایس اور بی جے پی کی شکست کا آغاز کاکتیہ کے شہر ورنگل سے ہوگا

عوام کو جھوٹے وعدوں سے ’’ہتھیلی میں جنت‘‘ دکھائی جارہی ہے ، کانگریس کے ایم پی امیدوار سروے ستیہ نارائنا کاانٹرویو

محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد۔8ننومبر ۔ کانگریس کے امیدوار سروے ستیہ نارائنا نے کہا کہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے زوال کا کاکتیہ کے تاریخی شہر ورنگل سے آغاز ہوگا۔ لوک سبھا کے ضمنی انتخاب میں عوام سیکولر نظریات رکھنے والی کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناتے ہوئے نفرت کی سوداگر بی جے پی اور جھوٹے وعدوں کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دینے والی ٹی آر ایس کو سبق سکھائیں گے۔ وہ روزنامہ سیاست کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سروے ستیہ نارائنا نے کہا کہ عوام ٹی آر ایس اور بی جے پی دونوں جماعتوں کی حکمرانی سے بدظن ہے۔ عام انتخابات 2014ء کے دوران ٹی آر ایس اور بی جے پی نے عوام کو جھوٹے وعدوں کے ذریعہ ہتھیلی میں جنت دکھایا۔ عوام نے ان پر بھروسہ کیا مگر مرکزی اور تلنگانہ کی حکومتیں اپنے وعدوں کو فراموش کرتے ہوئے دھوکہ دیا۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی ایک ہی لائن پر کام کررہی ہے اور دونوں کے نظریات ایک ہیں۔ دونوں حکومتوں نے وعدوں پر عمل نہ کرتے ہوئے ایک جیسا کام کرنے کا ثبوت دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر تلنگانہ شیکھر راؤ جمہوری اقدار کو فراموش کرتے ہوئے تانا شاہی پر عمل کررہے ہیں۔ بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت تشکیل پانے کے بعد ملک میں ہندوتوا طاقتوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ سیکولر ازم کو نقصان پہونچانے کی سازش کرتے ہوئے عدم رواداری کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ بیف کو متنازعہ بنادیا۔ کبھی گھر واپسی ، کبھی لو جہاد، پاکستان چلے جانے کے علاوہ نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ ریزرویشن کی مخالفت کی جارہی ہے۔ ملک کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا جواب صرف کانگریس دے سکتی ہے اور سونیا گاندھی نے فرقہ پرستی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ سے راشٹرپتی بھون تک مارچ کیا۔ دادری واقعہ کے خلاف ادیبوں، دانشوروں فلم اسٹارس نے بطور احتجاج ، عدم رواداری کے خلاف اپنے ایوارڈس کو واپس کردیا۔ یہ صحت مندانہ سیکولرازم کی علامت ہے۔ ٹی آر ایس حکومت وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے کیلئے بی سی کمیشن تشکیل دیتی لیکن سدھیر کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ سروے ستیہ نارائنا نے کہا کہ کانگریس دور حکومت کے دوران مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 4% مسلم تحفظات فراہم کیا جس سے مسلمانوں میں خوشحالی آئی ہے۔ ٹی آر ایس نے 12% مسلم تحفظات کا وعدہ کیا تو مسلمانوں نے اپنی زندگی میں انقلابی ترقی کی امید کرتے ہوئے ٹی آر ایس کو اقتدار میں لانے میں اہم رول ادا کیا۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اپنی جانب سے بی سی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے قانونی اور دستور کے مطابق پسماندگی کو بنیاد بناکر مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے کے بجائے اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ کے سی آر واقف ہے۔ نریندر مودی اور بی جے پی مسلم تحفظات کے خلاف ہے ۔ کانگریس نے پڑوسی ریاست مہاراشٹرا میں مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 5 فیصد مسلم تحفظات فراہم کیا۔ بی جے پی نے اس کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائیکورٹ نے ملازمتوں کے مسلم تحفظات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تعلیم میں مسلم تحفظات کو برقرار رکھا تاہم بی جے پی۔ شیوسینا کی حکومت نے قانون سازی کرتے ہوئے تعلیم سے بھی مسلم تحفظات کو برخاست کردیا۔ چیف منسٹر تلنگانہ بی جے پی کی گود میں مسلم تحفظات کو ڈالتے ہوئے بی جے پی کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ مسلم تحفظات کے معاملے میں دونوں کا ایجنڈہ ایک ہے۔ یہی نہیں مسلمانوں کو 12% مسلم تحفظات فراہم کرنے کے وعدہ کو پورا کرنے میں ناکام ہونے والی ٹی آر ایس حکومت حالیہ سرکاری تقررات میں نئے نئے شرائط عائد کرتے ہوئے کریمی لیئر کی بنیاد پر مسلمانوں کو 4% تحفظات سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بجٹ میں اقلیتوں کو 1105 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے مگر بجٹ کی اجرائی نہیں کی جارہی ہے۔ آلیر میں 5 مسلم زیردریافت قیدیوں کا بے رحمانہ قتل کردیا۔ عدالت کے بجائے ٹی آر ایس حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ قبائیلی طبقہ سے بھی 12% تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر وعدہ وفا نہیں کیا گیا۔ دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کرنے والے کے سی آر خود چیف منسٹر بن گئے دلتوں کو 3 ایکر اراضی دینے بے گھر افراد کو ڈبل بیڈ روم فلیٹس دینے، بیروزگار نوجوانوں کو روزگار دینے کنٹراکٹ ایمپلائیز کی خدمات کو مستقل کرنے کے علاوہ اور بھی کئی وعدے کئے گئے جس پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی۔ نصف آبادی رکھنے والی خواتین کو کابینہ میں نمائندگی نہ دیتے ہوئے ان کی توہین کی گئی۔ زرعی شعبہ بحران کا شکار ہے۔ کسان حکومت سے ناراض سینکڑوں کسان خودکشی کرچکے ہیں۔ سماج کا ہر طبقہ مرکزی اور تلنگانہ حکومت کی کارکردگی سے بدظن ہے۔ ورنگل کے عوام کیلئے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناتے ہوئے مودی اور کے سی آر کو اپنی سوچ، پالیسیاں تبدیل کرنے اور وعدوں کو نبھانے کیلئے ووٹ کی طاقت سے مجبور کریں۔

TOPPOPULARRECENT