Saturday , December 15 2018

ٹی آر ایس اور کانگریس کو پرانے شہر میں روکنے مقامی جماعت کے حربے

حکومت سے تعاون نہ ملنے پر اتحاد توڑنے کی دھمکی، میٹرو ریل احتجاج کو ناکام بنانے کا بھی منصوبہ

حیدرآباد۔/6 جنوری، ( سیاست نیوز) پرانے شہر حیدرآباد کے 7 اسمبلی حلقوں میں ٹی آر ایس اور کانگریس کی سرگرمیوں میں اضافہ اور کیڈر کے استحکام سے پریشان مقامی جماعت نے حکومت کے ذریعہ مخالف سرگرمیوں کو کچلنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اور ان کے فرزند کے ٹی راما راؤ پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ ٹی آر ایس کیڈر کو پرانے شہر میں سرگرم ہونے سے روکا جائے تاکہ مقامی جماعت کا غلبہ برقرار رہے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی جماعت نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر ٹی آر ایس پرانے شہر کے کیڈر کو روکا نہیں گیا تو وہ حکومت سے اپنے اتحاد کی برقراری پر نظر ثانی کریگی اور عوامی مسائل پر حکومت کی ناکامیوں کو اُجاگر کیا جائیگا۔ مقامی جماعت کی یہ تاریخ رہی کہ اس نے ہمیشہ برسر اقتدار جماعت سے مفاہمت کرکے نہ صرف برسراقتدار پارٹی بلکہ دیگر جماعتوں کے قائدین کی سرگرمیوں پر کنٹرول کی کوشش کی۔ مختلف انداز سے مخالفین کو ہراساں کیا جاتا ہے اور بسا اوقات پولیس کا استعمال ہوتا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب ٹی آر ایس اور کانگریس نے پرانے شہر میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی اور انہیں غیر متوقع عوامی تائید حاصل ہورہی ہے۔

عوامی مسائل پر اپوزیشن کی متحدہ جدوجہد نے مجلس کے ہوش اُڑادیئے ہیں اور اس نے حکومت کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ میٹرو ریل مسئلہ پر پرانے شہر میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جس انداز میں عوامی شعور بیدار کرنے کا کام کیا اس سے مقامی جماعت کی قیادت خوش نہیں ہے۔ جے اے سی میں ٹی آر ایس کے بشمول دیگر تمام جماعتیں شامل ہیں۔ حالیہ عرصہ میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے نہ صرف کئی اجلاس منعقد کئے بلکہ احتجاجی دھرنا اور ریالی بھی منظم کی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت ٹی آر ایس قائد کے ہاتھ میں ہے لہذا مقامی جماعت نے حکومت پر دباؤ بنانا شروع کردیا ہے کہ پارٹی قائدین کو میٹرو ریل احتجاج سے باز رکھیں۔ بتایا جاتا ہیکہ پارٹی نے پرانے شہر کے دیگر قائدین کو میٹرو ریل احتجاج میں شدت سے باز رکھا ہے اور جو کوئی بھی اس احتجاج میں شریک ہوگا اسے ڈسپلن شکنی تصور کیا جائیگا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ٹی آر ایس قائدین نے اچانک اس احتجاج سے دوری اختیاری کرلی۔ عوامی مسائل اور خاص طور پر میٹرو ریل پراجکٹ کے سلسلہ میں حکومت و پارٹی کے رویہ کو دیکھتے ہوئے میٹرو ریل ایجی ٹیشن سے وابستہ قائدین دوسری جماعتوں میں شمولیت کی تیاری کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ پارٹی میں رہ کر سرگرمیوں کوجاری رکھتے ہیں تو انکے خلاف تادیبی کارروائی کا امکان ہے۔ موجودہ صورتحال میں پرانے شہر کے ٹی آر ایس قائدین اور کیڈر کو الجھن میں مبتلاء کردیا ہے۔ وہ عوامی مسائل پر نمائندگی کے موقف میں نہیں ہیں اور 2001 سے پارٹی سے وابستگی کے باوجود انہیں آج تک پارٹی یا سرکاری اداروں میں نمائندگی نہیں دی گئی۔ ٹی آر ایس قائدین کا حال سابق میں کانگریس کے پرانے شہر قائدین کی طرح ہوچکا ہے ۔ دوسری طرف مقامی جماعت کانگریس کے پرانے شہر میں بڑھتے اثر کو روکنے حکومت سے مدد لے گی۔ حالیہ عرصہ میں مجلس کے جن قائدین نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ان کے مقدمات اور تنازعات کی فہرست تیار کرکے پولیس کے ذریعہ ہراساں کیا جاسکتا ہے۔ اسکے علاوہ ایسے قائدین جو کانگریس میں شمولیت کی تیاری میں ہیں انکے بارے میں معلومات اکٹھا کی جارہی ہیں تاکہ شمولیت کی صورت میں انہیں بھی نشانہ بنایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT