Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس برقی پیداوار کے مسئلہ پر کھلے عام مباحث کے لیے تیار

ٹی آر ایس برقی پیداوار کے مسئلہ پر کھلے عام مباحث کے لیے تیار

کانگریس کو مقام اور وقت مقرر کرنے کا مشورہ ، ٹی آر ایس قائدین کا ردعمل
حیدرآباد۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں برقی کی پیداوار کے مسئلہ پر ٹی آر ایس اور کانگریس میں لفظی جنگ نے شدت اختیار کرلی ہے۔ دونوں پارٹیوں کے قائدین کھلے مباحث کے لیے ایک دوسرے کو چیلنج کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن نے گورنمنٹ وہپ پی راجیشور ریڈی کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس قائدین کو چیلنج کیا کہ وہ تلنگانہ میں برقی صورتحال اور پیداوار کے مسئلہ پر کھلے مباحث کے لیے مقام اور جگہ کا خود انتخاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی مقام پر مباحث کے لیے تیار ہیں۔ سمن نے کہا کہ اگر کانگریس قائدین الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہیں تو انہیں عابڈس چوراہے پر اپنی ناک رگڑنی ہوگی اور اگر برقی صورتحال پر ان کے اعداد و شمار غلط ہوں تو وہ ناک رگڑنے تیار ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ کسانوں کو 24 گھنٹے برقی سربراہ کرنے سے کانگریس قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں اور وہ الزام تراشی اور غلط اعداد و شمار کے ذریعہ عوام میں الجھن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ سمن نے کہا کہ برقی کے بارے میں کانگریس کی جانب سے گاندھی بھون جھوٹ پھیلانے کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات ثابت نہ کرنے کی صورت میں جانا ریڈی اور ڈپٹی لیڈر جیون ریڈی کو بھی مباحث کے لیے ساتھ لانا چاہئے۔ سمن نے کہا کہ وزیر برقی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے محمد علی شبیر کو مباحث میں ساتھ لائیں تاکہ حقیقی صورتحال منظر عام پر آئے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے نئے سال کے آغاز پر کسانوں کو 24 گھنٹے برقی سربراہی کا آغاز کیا جسے کانگریس پارٹی برداشت نہیں کرپا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو حکومت نے جب برقی شرحوں میں اضافہ کیا تو چیف منسٹر کے سی آر نے مخالفت کی۔ اس طرح تلگودیشم میں رہتے ہوئے کے سی آر نے کسانوں اور زرعی شعبہ کی بھلائی کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ کرن کمار ریڈی نے تلنگانہ کی تشکیل کی صورت میں ریاست تاریکی میں ڈوب جانے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا لیکن ٹی آر ایس حکومت نے تین برسوں میں برقی صورتحال پر مکمل قابو پالیا ہے۔ برقی شعبہ میں خودمکتفی ہوتے ہوئے زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے سربراہی کا آغاز کیا گیا جو ملک بھر میں منفرد مثال ہے۔ ملک کی کسی بھی ریاست میں زرعی شعبہ کو بلا وقفہ سربراہی کا نظم نہیں ہے۔ سمن نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں برقی شعبہ کو نظرانداز کردیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں دارالحکومت حیدرآباد میں روزانہ برقی کٹوتی کے ذریعہ عوام کو پریشانی میں مبتلا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جون 2014ء تک ریاست میں برقی کی پیداوار 6574 میگاواٹ تھی اور تین برسوں میں پیداواری صلاحیت بڑھ کر 14913 میگاواٹ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تشکیل کے وقت برقی لائین 16,396 کیلومیٹر تھی اور 3 برسوں میں 4511 کیلومیٹر کا اضافہ کیا گیا اور موجودہ برقی لائین 20,890 کیلومیٹر ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT