Wednesday , December 12 2018

ٹی آر ایس جوکروں کی جماعت ، کے ٹی آر بروکر

کانگریس کو لوفر قرار دینے پر سید عظمت اللہ حسینی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 9 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی سید عظمت اللہ حسینی نے ٹی آر ایس کو ’ جوکروں ‘ کی جماعت اور کے ٹی آر کو ’ بروکر ‘ قرار دیتے ہوئے ٹی آر ایس کے قائدین کو زبان سنبھالنے کا انتباہ دیا ۔ سید عظمت اللہ حسینی نے کہا کہ ملک کی آزادی میں اہم رول ادا کرنے اور علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے والی کانگریس کو ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کی جانب سے ’ لوفر ‘ پارٹی قرار دینے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ تم بھی لوفر کے فرزند ہو تمہارے والد چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے سیاست کی اے بی سی ڈی کانگریس سے سیکھی ہے ۔ کے سی آر کی سیاسی زندگی کانگریس کی مرہون منت ہے ۔ یوتھ کانگریس سے کے سی آر نے سیاسی میدان میں قدم رکھا تھا ۔ انہوں نے ٹی آر ایس کے وجود کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے بعد ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرانے کا کے سی آر نے اعلان کیا تھا ۔ پہلا تلنگانہ کا چیف منسٹر دلت کو بنانے کا وعدہ کیا تھا ۔ اقتدار حاصل ہوتے ہی اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ بیروزگار نوجوانوں کو ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ بے گھر افراد کو عزت سے زندگی گذارنے کے لیے ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کر کے دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ اقتدار کے 4 سال تکمیل ہونے کے باوجود ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا اور کے ٹی آر نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کیا جاتا تو وہ سیاسی میدان میں نہیں ہوتے تھے پھر علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ارکان خاندان کے ساتھ اس وقت کی صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی سے کیوں ملاقات کی تھی ۔ راہول گاندھی کو پپو قرار دینے والے کے ٹی آر اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھ لیں ۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک میں کوئی رول ادا نہیں کیا ۔ سوٹ بوٹ زیب تن کرنے کے بعد اخلاق اور تہذیب سے محروم ہوگئے ۔ ٹی آر ایس قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ۔ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ ٹی آر ایس کا 4 سالہ دور حکومت مایوس کن ہے ۔ سنہرے تلنگانہ ریاست کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے میں ٹی آر ایس حکومت ناکام ہوچکی ہے ۔ ریاست میں جب بھی انتخابات منعقد ہوں گے ۔ کانگریس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔ زمینی حالت کا پتہ چل جانے کے بعد مایوسی کا شکار کے ٹی آر کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے ۔ اس لیے وہ بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT