Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / ٹی آر ایس حکومت سرکاری ملازمین کے مسائل کی یکسوئی میں ناکام

ٹی آر ایس حکومت سرکاری ملازمین کے مسائل کی یکسوئی میں ناکام

علحدہ تلنگانہ کے قیام میں علاقہ کے ملازمین کا اہم رول ، اتم کمار ریڈی کا بیان
حیدرآباد ۔ 12 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ٹی آر ایس حکومت پر سرکاری ایمپلائز کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوجانے کا الزام عائد کیا ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی اور ترجمان اعلیٰ ڈی شرون نے چیف منسٹر کے سی آر کے نام کھلا مکتوب جاری کرتے ہوئے فوری پی آر سی کی تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان اعلیٰ کانگریس پارٹی نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں سرکاری ملازمین کا رول ناقابل فراموش تھا ۔ عام ہڑتال میں حصہ لیتے ہوئے سرکاری ملازمین 42 دن کی تنخواہوں سے محروم بھی رہ گئے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے سرکاری ملازمین کے لیے کوئی راحت پیاکیج کا اعلان نہیں کیا جس سے حکومت کے خلاف سرکاری ملازمین میں مایوسی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ سرکاری ملازمین کی قربانیوں کو نظر انداز کرنا ٹی آر ایس حکومت کے لیے مہنگا ثابت ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سرکاری ملازمین تنظیموں کے قائدین جنہوں نے سرکاری ملازمین کے تعاون و اشتراک سے اہم رول ادا کیا تھا ان میں رویندر ریڈی ، دیوی پرساد ، سوامی گوڑ اور سرینواس گوڑ وغیرہ کو اہم عہدوں پر فائز کیا گیا لیکن سرکاری ملازمین کو یکسر نظر انداز کردیا گیا یہاں تک اہم عہدے حاصل کرنے والے نمائندوں نے بھی سرکاری ایمپلائز کے مسائل کو حکومت کے سامنے پیش کرنے اور اس کو حل کرانے کی کوشش بھی نہیں کی ۔ ترجمان اعلی پردیش کانگریس کمیٹی نے سرکاری ملازمین کے وظیفہ کی حد عمر کو 58 سے بڑھا کر 60 سال کرنے کا مطالبہ کیا ۔ سرکاری ملازمین کو سوشیل سیکوریٹی اور پنشن اسکیم بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔ شرون نے یکم جولائی 2018 سے نئے پی آر سی پر عمل کر نے کا مطالبہ کیا ابھی تک پی آر سی کی عدم تشکیل پر تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تبادلوں اور ترقی کے عمل میں تاخیر سے سرکاری ایمپلائز میں حکومت کے خلاف شدت سے ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ شرون نے کہا کہ حکومت نے عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اضلاع کی تنظیم جدید کردی مگر آج تک نئے اضلاع میں اسٹاف کا تقرر نہیں کیا ۔ 21 اضلاع میں 63 ڈپٹی ڈی ای اوز ار 45 منڈلوں میں ایم آر اوز کی جائیدادیں مخلوعہ پائی جاتی ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT