Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس حکومت نے 4 فیصد تحفظات کو بھی خطرہ میں ڈال دیا

ٹی آر ایس حکومت نے 4 فیصد تحفظات کو بھی خطرہ میں ڈال دیا

کھمم میں کانگریس امیدواروں کی انتخابی مہم ۔ قائد تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر کا خطاب
حیدرآباد۔ 3 مارچ (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ 12% مسلم تحفظات کا وعدہ والی ٹی آر ایس حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا وکیل بھیجنے سے گریز کرکے کانگریس کے فراہم کردہ 4% مسلم تحفظات کو خطرہ میں ڈال دیا ہے ۔ حکومت سے جواب طلب کرنے کیلئے کھمم اور ورنگل کے انتخابات میں کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی رائے دہندوں سے اپیل کی۔ مسٹر محمد علی شبیر نے گریٹر میونسپل کارپوریشن کھمم کے 8 بلدی ڈیویژنس میں کانگریس امیدواروں کیلئے انتخابی مہم چلائی جس سے کانگریس کیڈر میں جوش و خروش پیدا ہوا ہے۔ مختلف مقامات پر خطاب میں مسٹر محمد علی شبیر نے برقی سربراہی اور وظیفوں کی اجرائی کے دوسرے کسی بھی وعدے پورے نہ کرنے کا ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں بلاوقفہ برقی سربراہی کرنے کا وعدہ کرنے والی حکومت نے کامیابی کے بعد وعدے سے منحرف ہوگئی ہے۔ حیدرآباد میں اعلان کئے بغیر روزانہ دو گھنٹے برقی میں کٹوتی کی جارہی ہے۔ انتخابات میں برقی اور پانی کے بقایاجات معاف کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم انتخابات کے اختتام کے بعد ٹیکسوں کو اچانک 100 روپئے سے بڑھاکر 1,000 روپئے کردیا گیا ہے جس کے خلاف چیف منسٹر کے اسمبلی حلقہ گجویل میں عوام اس فیصلے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ قبل ازیں مسٹر محمد علی شبیر نے کھمم کانگریس بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو اندرون 4 ماہ 12% مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا مگر 20 ماہ گذرنے کے باوجود وعدہ پورا نہیں کیا گیا، وقت ضائع کرنے کیلئے سدھیر کمیٹی تشکیل دے کر اس کی میعاد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تحفظات کے معاملے میں چیف منسٹر کے سی آر کے دل میں کھوٹ ہے۔ 12% مسلم تحفظات فراہم نہ کرنے والی ٹی آر ایس حکومت کانگریس کے فراہم کردہ 4% مسلم تحفظات کی برقراری کیلئے بھی غیرسنجیدہ ہے۔ چیف منسٹر کی غفلت سے 4% مسلم تحفظات کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی دستوری بینچ پر 4% مسلم تحفظات کی سماعت مقرر تھی مگر تلنگانہ حکومت نے اپنے وکیل کو سپریم کورٹ روانہ نہیں کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چیف منسٹر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے سنجیدہ نہیں ہیں ۔ حکومت کی 20 ماہی کارکردگی مایوس کن ہے۔ سماج کے تمام طبقات کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ بعدازاں محمد علی شبیر نے 12% مسلم تحفظات کیلئے 5 دن بھوک ہڑتال کرنے والے مسٹر اسد کی قیام گاہ پہونچ کر ان سے ملاقات کی اور 12% مسلم تحفظات کیلئے زنجیری بھوک ہڑتال کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں سے اظہارِ تشکر کیا۔

TOPPOPULARRECENT