Sunday , October 21 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس حکومت کا بجٹ عوامی خواہشات و امنگوں کے عین مطابق

ٹی آر ایس حکومت کا بجٹ عوامی خواہشات و امنگوں کے عین مطابق

اپوزیشن کی تنقیدیں مسترد ، ٹی آر ایس ایم ایل سی کے پربھاکر کا بیان
حیدرآباد۔16 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے ریاستی بجٹ برائے مالیاتی سال 2018-19ء کو عوامی خواہشات اور امنگوں کے عین مطابق قرار دیا اور کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی اور فلاحی اقدامات پر مبنی بجٹ کی پیشکشی چیف منسٹر کے سی آر کا کارنامہ ہے۔ پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بجٹ پر اپوزیشن کی تنقیدوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے لیے کے سی آر حکومت نے ترقی اور فلاح و بہبود پر مبنی بجٹ تیار کیا ہے اور عوام کی جانب سے بجٹ کا استقبال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات کو فلاحی اسکیمات کے فوائد پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کی باتوں پر عمل آوری کو بجٹ میں پھر ایک بار ثابت کردیا ہے۔ چیف منسٹر عوام کی بھلائی کے سلسلہ میں جو کچھ فیصلہ کرتے ہیں اس کا اظہار بجٹ کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں جی ڈی پی کی شرح 5 فیصد تھی اور تلنگانہ ریاست میں یہ شرح دوگنی ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017-18ء بجٹ میں 95 فیصد رقومات کو خرچ کرنے کا تلنگانہ حکومت کو اعزاز حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ بجٹ اس قدر بہتر اور موافق عوام ہے لیکن کانگریس قائدین گاندھی بھون میں بنائوٹی بھوک ہڑتال کے ذریعہ حکومت کو برابھلا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی جدوجہد کے نتیجہ میں تلنگانہ حاصل ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے گزشتہ 4 برسوں میں تمام ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی پر نکتہ چینی کے لیے کانگریس کے پاس کوئی موضوعات نہیں ہیں لہٰذا بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو انتباہ دیا کہ وہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اور وزیر برقی جگدیشور ریڈی کے خلاف الزام تراشی سے گریز کریں۔ بصورت دیگر ٹی آر ایس قائدین بھی اسی انداز میں جواب دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام شعبہ جات میں ریاست کی ترقی اور ملک بھر میں سرفہرست ریاست کا مقام حاصل ہونے پر کانگریس قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین گاندھی بھون میں بیٹھ کر حکومت اور حکومت میں شامل افراد کے خلاف گوبل پرچار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 1,74000 کروڑ کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اپنی ترجیحات اور عوامی بھلائی کی اسکیمات کے لیے زائد رقومات مختص کی ہیں۔ تلنگانہ کا بجٹ ترقی اور فلاحی بجٹ ہے۔ زراعت اور آبپاشی شعبہ کو اولین ترجیح دی گئی۔ 25 ہزار کروڑ سے آبپاشی پراجیکٹس مکمل کیے جائیں گے۔ زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی کے سی آر حکومت کا کارنامہ ہے۔ ملک کی کوئی اور ریاست ایسی مثال پیش نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 2009ء میں عوام سے جو وعدے کیے تھے ان پر عمل آوری میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے سابق مرکزی وزیر جئے پال ریڈی کی جانب سے حکومت پر تنقید کو مسترد کردیا اور کہا کہ جئے پال ریڈی اپنے مقام اور مرتبہ کا خیال کیے بغیر الزامات عائد کررہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس قائدین وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کے خلاف اسمبلی میں کی گئی کارروائی کی تائید کی اور کہا کہ گورنر کے خطبے کے دوران ان ارکان کا رویہ قابل اعتراض تھا۔ لہٰذا اسمبلی نے متفقہ طور پر رکنیت برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT