Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس حکومت کا بجٹ مایوس کن ، صرف اعداد و شمار کا کھیل: ڈاکٹر کے لکشمن

ٹی آر ایس حکومت کا بجٹ مایوس کن ، صرف اعداد و شمار کا کھیل: ڈاکٹر کے لکشمن

حیدرآباد ۔ 11 ۔ مارچ (سیاست نیوز) بی جے پی نے ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کو مایوس کن اور اعداد و شمار کے کھیل سے تعبیر کیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی جے پی کے فلور لیڈر ڈاکٹر لکشمن اور ارکان اسمبلی سی ایچ رام چندرا ریڈی اور پربھاکر نے بجٹ کو عوامی توقعات کے برخلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2015-16 ء کیلئے

حیدرآباد ۔ 11 ۔ مارچ (سیاست نیوز) بی جے پی نے ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کو مایوس کن اور اعداد و شمار کے کھیل سے تعبیر کیا۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی جے پی کے فلور لیڈر ڈاکٹر لکشمن اور ارکان اسمبلی سی ایچ رام چندرا ریڈی اور پربھاکر نے بجٹ کو عوامی توقعات کے برخلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2015-16 ء کیلئے ایک لاکھ 15 ہزار کروڑ کا بجٹ پیش کیا ہے لیکن اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ اس بجٹ کو کس طرح خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایک لاکھ 6 ہزار کروڑ کا بجٹ پیش کیا گیا تھا لیکن صرف 60 فیصد بجٹ بھی خرچ نہیں کیا جاسکا۔ لہذا حکومت کی جانب سے مکمل بجٹ کے خرچ کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ ریاست کے معاشی مسائل کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دینا افسوسناک ہے۔ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے مرکز پر الزام تراشی کر رہی ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جاسکے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مناسب امداد حاصل نہ ہونے کی شکایت کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ مرکز ہر شعبہ میں تلنگانہ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کسانوں کے قرض کی معافی سے متعلق اسکیم پر عمل نہیں کیا گیا ۔ اسی طرح مشن کاکتیہ اسکیم پر گزشتہ بجٹ میں منظور کی گئی رقم خرچ نہیں کی گئی۔ بی جے پی فلور لیڈر نے بجٹ میں شہیدان تلنگانہ کی تعداد کو گھٹا کر پیش کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہیدان تلنگانہ کے خاندانوں کو امداد فراہم کرنے اور بازآبادکاری کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ بی جے پی قائدین نے کہا کہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کیلئے اعداد و شمار کا کھیل کھیلا گیا ہے۔ گزشتہ بجٹ میں غریبوں سے جو وعدے کئے گئے تھے ، ان پر عمل آوری نہیں کی گئی ۔ کمزور طبقات اور اقلیتوں کے لئے گزشتہ سال مختص کردہ بجٹ 50 فیصد بھی خرچ نہیں ہوسکا۔ انہوں نے حکومت پر بجٹ میں فلاحی اسکیمات کو نظر انداز کرنے کا ا لزام عائد کیا۔

TOPPOPULARRECENT