Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / ٹی آر ایس حکومت کا جشن تلنگانہ مسلمانوں کیلئے مایوسی کا دوسراسال

ٹی آر ایس حکومت کا جشن تلنگانہ مسلمانوں کیلئے مایوسی کا دوسراسال

کے سی آروعدہ بھول گئے،12فیصد تحفظات کے بغیر جشن کی کوئی اہمیت نہیں،عوام قائدین سے سوال کریں
سدھیر کمیشن کی رپورٹ کیلئے مزید ایک سال درکار

حیدرآباد۔/24 مئی، ( سیاست نیوز) کسی بھی حکومت کو جشن منانے کیلئے اپنے وعدوں کی تکمیل کا حساب عوام کے روبرو پیش کرنا چاہیئے۔ اگر وعدے پورے نہیں کئے گئے تو پھر حکومت کو دو سال کی تکمیل کا جشن منانے کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ تاثرات تلنگانہ کے مسلمانوں کے ہیں جن سے ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے انتخابات سے قبل12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔ کے سی آر نے انتخابی مہم کے دوران بارہا اس بات کو دہرایا تھا کہ حکومت کی تشکیل کے اندرون 4 ماہ ٹاملناڈو کی طرز پر 12فیصد تحفظات پر عمل کرکے دکھائیں گے۔ کے سی آر نے جس پُرعزم انداز میں وعدہ کیا مسلمانوں نے اس پر بھروسہ کرلیا اور ٹی آر ایس کی تائید کی لیکن حکومت کے 2سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن وعدہ وفا نہیں ہوسکا۔ تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں کے سی آر حکومت کی سنجیدگی پر کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ چیف منسٹر بننے کے بعد جب ان سے 4 ماہ میں تحفظات کی فراہمی کے وعدہ پر سوال کیا گیا تو انہوں نے صاف لفظوں میں انکار کردیا کہ انہوں نے کبھی بھی چار ماہ میں تحفظات کی فراہمی کا وعدہ نہیں کیا تھا جبکہ ان کی تقریر کی ویڈیو ریکارڈنگ عوام میں گشت ہوئی ہے۔ اگر 4 ماہ میں تحفظات ممکن نہیں تھے تو پھر ٹاملناڈو کی طرز کا دعویٰ کیوں کیا گیا ؟۔ تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ کو ٹالنے کیلئے ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کی قیادت میں کمیشن آف انکوائری قائم کردیا گیا اور اسے مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اگر حکومت تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ ہوتی تو ماہرین کا خیال ہے کہ اسے کمیشن آف انکوائری کے بجائے راست طور پر بی سی کمیشن قائم کرنا چاہیئے تھا۔ برخلاف اس کے سدھیر کمیشن کا قیام اور دو مرتبہ اس کی میعاد میں توسیع اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت کسی نہ کسی طرح اس مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کررہی ہے۔ دوسری طرف انکوائری کمیشن کو شکایت ہے کہ اس کے کام کی تکمیل میں بیوروکریسی اہم رکاوٹ ہے۔ کمیشن نے اپنے قیام کے بعد تمام اضلاع کے دورے مکمل کرلئے اور تمام محکمہ جات سے مسلمانوں کی ملازمتوں اور دیگر شعبوں کے بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابھی تک 25فیصد محکمہ جات نے بھی رپورٹ پیش نہیں کی۔

بعض محکمہ جات تو طلب کردہ معلومات کے برخلاف تفصیلات روانہ کرتے ہوئے کمیشن کیلئے مسائل پیدا کررہے ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو کمیشن کو رپورٹ پیش کرنے کیلئے کم از کم مزید ایک سال کا وقت درکار ہوگا۔ اس طرح مزید دو مرتبہ توسیع دینی ہوگی اس وقت تک حکومت کے تین سال مکمل ہوجائیں گے۔ کمیشن نے اپنے طور پر علحدہ سروے کا کام شروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف منڈلس اور ٹاؤنس کے دورہ کا منصوبہ ہے تاکہ شخصی طور پر مسلمانوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے۔ الغرض کمیشن کو مسلم تحفظات کی سفارش کی ذمہ داری دیئے جانے کا بہانہ بناکر ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو بہلانے کی کوشش کررہی ہے۔ 3 مارچ 2015کو کمیشن قائم کیا گیا لیکن 4ماہ بعد ارکان کا تقرر عمل میں آیا۔ دفتر کی تلاش میں 6 ماہ کی پہلی میعاد مکمل ہوگئی اور دوسری میعاد سے کمیشن نے کام کا آغاز کیا۔ اس طرح کمیشن کی دوسری توسیعی میعاد چل رہی ہے جو 30 سپٹمبر کو ختم ہوجائیگی۔ حکومت ایک طرف مسلمانوں کی ترقی کے بلند بانگ دعوے کررہی ہے لیکن اس کی اعلان کردہ کسی بھی اسکیم پر مکمل طور پر عمل آوری نہیں کی گئی ہر اسکیم میں کچھ نہ کچھ بے قاعدگیاں یا پھر عہدیداروں کے تساہل کے سبب مسلمانوں کو فائدہ نہیں پہنچا۔

مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ صرف ہر سال اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ سے مسلمانوں کو خوش نہیں کیا جاسکتا تاوقتیکہ 12فیصد تحفظات کے وعدہ پر عمل نہ ہو کیونکہ  تحفظات ہی روزگار اور تعلیم میں مسلمانوں کی ترقی کے ضامن ہوں گے۔ دو سال کی تکمیل کا جشن منانے سے قبل حکومت کو مسلمانوں کو جواب دینا ہوگا۔ حکومت نے مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے جشن تلنگانہ کے نام پر 3 اردو پروگراموں کو قطعیت دی ہے۔ کُل ہند مشاعرہ، شام غزل اور قوالی کے ذریعہ مسلمانوں کو جشن میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان پروگراموں سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ حکومت مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے ٹھوس قدم اٹھائے۔ تہذیبی پروگراموں کے ذریعہ مسلمانوں کو دراصل لبھانے اور انہیں حقیقی مطالبہ کو بھلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ برسراقتدار پارٹی کے قائدین اور عوامی نمائندے بھی خود کو ہم آہنگ کرلیں اور حکومت پر تحفظات کی فراہمی کیلئے دباؤ ڈالیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے قائدین اور برسراقتدار پارٹی کے قائدین ان پروگراموں کے بائیکاٹ کی اپیل کریں تاکہ حکومت پر دباؤ بنایا جاسکے۔ تحفظات کے سلسلہ میں حکومت کی سنجیدگی کا امتحان سپریم کورٹ میں 4 فیصد تحفظات کے مقدمہ کی پیروی کے وقت ہوجائیگا جب تلنگانہ حکومت اپنا موقف عدالت میں پیش کرے گی۔ حکومت کے دو سال کی تکمیل کے موقع پر جہاں کہیں بھی سرکاری تقاریب منعقد کی جائیں مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ اس میں شرکت کرنے والے وزراء، عوامی نمائندوں اور ٹی آر ایس قائدین سے 12فیصد تحفظات کے بارے میں سوال کریں۔

TOPPOPULARRECENT