Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس حکومت کی نیت میں کھوٹ

ٹی آر ایس حکومت کی نیت میں کھوٹ

کسانوں کے قرضوں کی مشروط معافی پر اپوزیشن پارٹی کانگریس کا رد عمل

کسانوں کے قرضوں کی مشروط معافی پر اپوزیشن پارٹی کانگریس کا رد عمل

حیدرآباد /5 جون (سیاست نیوز) اسمبلی اور کونسل کے قائدین مقننہ کانگریس پارٹی کے جانا ریڈی اور ڈی سرینواس نے کہا کہ تلنگانہ میں قرضوں کی معافی کو حکومت کی جانب سے مشروط بنانے پر کسانوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ دونوں قائدین نے ایک ہی موضوع پر علحدہ علحدہ پریس کانفرنس کا اہتمام کیا۔ سی ایل پی آفس اسمبلی میں بحیثیت قائد مقننہ کے جانا ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں کے ایک لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کرنے عوام سے وعدہ کیا تھا، جس پر بھروسہ کرکے عوام نے ٹی آر ایس کو اقتدار حوالے کیا، تاہم اب ٹی آر ایس حکومت اپنے وعدہ کو نبھانے میں ٹال مٹول کا مظاہرہ کر رہی ہے اور صرف گزشتہ ایک سال کے دوران لئے گئے قرض کو معاف کرنے کا وعدہ کرکے کسانوں کو دھوکہ دے رہی ہے، جس کی وجہ سے کسانوں میں حکومت کی نیت کے بارے میںشکوک پیدا ہو رہے ہیں، لہذا حکومت اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرے اور غیر مشروط طریقے سے کسانوں کے تمام قرضہ جات معاف کرے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے کانگریس پارٹی اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرے گی۔

دریں اثناء آندھرا پردیش قانون ساز کونسل میں کانگریس کے فلور لیڈر ڈی سرینواس نے اپنی پریس کانفرنس میں ٹی آر ایس حکومت کے فیصلہ پر اعتراض کیا اور کہا کہ عام انتخابات میں ٹی آر ایس نے کسانوں کے قرض کی غیر مشروط معافی کا اعلان کیا تھا، تاہم اقتدار حاصل ہونے کے بعد اسے مشروط بنا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف کسانوں کو دھوکہ دے رہی ہے اور دوسری طرف پارٹی منشور کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جس کی کانگریس سخت مخالفت کرے گی، اسمبلی اور کونسل کے اجلاس میں اس کو موضوع بحث بنائے گی اور وعدہ پر عمل آوری کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔ڈی سرینواس نے کہا کہ 9 جون سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس کے دوران کانگریس پارٹی کسانوں کے قرضہ جات اور دیگر مسائل کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کروائے گی۔

TOPPOPULARRECENT