Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس حکومت کے بچاؤ میں کئی وزراء ٹوٹ پڑ گئے

ٹی آر ایس حکومت کے بچاؤ میں کئی وزراء ٹوٹ پڑ گئے

کے سی آر پر پروفیسر کودنڈا رام کی تنقید کا ایٹالہ راجندر اور دیگر کا جوابی ردعمل
حیدرآباد۔ 6۔ جون  ( سیاست نیوز) کئی ریاستی وزراء اور ٹی آر ایس کے عوامی نمائندوں نے تلنگانہ پولیٹیکل جے اے سی کے صدرنشین پروفیسر کودنڈارام پر تنقیدوں کی بوچھار کردی ہے۔ کودنڈارام نے حکومت کی بعض پالیسیوں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر کھلے عام تنقید کی تھی، جس کے ساتھ ہی ریاستی وزراء اور ٹی آر ایس کے عوامی نمائندے حکومت کے بچاؤ میں ٹوٹ پڑے اور کودنڈا رام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ تلنگانہ تحریک میں جے اے سی صدرنشین کی حیثیت سے اہم رول ادا کرنے والے پروفیسر کودنڈا رام کو کانگریس پارٹی کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے ۔ وزیر فینانس ای راجندر نے کودنڈا رام کی جانب سے چیف منسٹر کے خلاف الزامات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راجندر نے الزامات کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت کو بدنام کرنے کیلئے اس طرح کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے قیام کے بعد بھی سازشوں کا سلسلہ جاری ہے اور کودنڈا رام نے خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ تلنگانہ کے قیام کے باوجود آندھرائی طاقتیں اپنی سازشیں جاری رکھیں گی۔ راجندر نے کہاکہ کودنڈا رام کی جانب سے حکومت پر تنقید غیر ضروری ہے اور وہ بعض معاملات میں غلط فہمی اور معلومات کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کی اسکیمات سے نہ صرف تلنگانہ عوام بلکہ دوسری ریاستوں کی حکومتیں بھی متاثر ہیں۔ وزیر فینانس نے کہا کہ غریب عوام کا ایجنڈہ دراصل حکومت کا ایجنڈہ ہے ۔ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے عوام کی بھلائی کیلئے کئی اقدامات کئے۔ ڈپٹی اسپیکر اسمبلی پدما دیویندر ریڈی نے حکومت کے خلاف کودنڈا رام کے اقدامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کودنڈارام کو چاہئے کہ وہ عملی سیاست میں قدم رکھتے ہوئے حکومت کو تجاویز پیش کریں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ تلنگانہ جے اے سی کا وجود باقی نہیں رہا لیکن کودنڈا رام ابھی بھی خود کو جے اے سی کا صدرنشین ظاہر کر رہے ہیں۔ حکومت کی اسکیمات پر ان کی تنقیدیں غیر ضروری ہیں۔ ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن نے الزام عائد کیا کہ کودنڈا رام دراصل کانگریس پارٹی کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سمن نے کہاکہ کسانوں کی مشکلات دور کرنے اور برقی بحران سے نمٹنے کیلئے چیف منسٹر نے جو کارنامہ انجام دیا، اس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کودنڈا رام سے سوال کیا کہ کیا حکومت کی فلاحی اسکیمات اور برقی بحران سے نمٹنے میں کامیابی سے وہ واقف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے خلاف آندھرا قائدین بھی سازشوں پر کودنڈا رام کی خاموشی باعث حیرت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کودنڈا رام کو پولیٹیکل جے اے سی کا صدرنشین مقرر کیا تھا ۔ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے کودنڈا رام کے کئی غلط فیصلوں کی اصلاح کی۔ سمن نے کودنڈارام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ وزیر صحت لکشما ریڈی نے کودنڈا رام کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت پر تنقیدوں کے بجائے تعمیری تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر کی حیثیت سے لکچر دینا الگ بات ہے لیکن حکمرانی کرنا بالکل مختلف ہے ۔ کے سی آر کی قیادت میں دو برسوں میں حکومت نے کئی تاریخی قدم اٹھائے ہیں۔ غریبوں اور عوامی بھلائی کیلئے شروع کردہ ا سکیمات ملک بھر میں شہرت حاصل کرچکی ہیں۔ جب کہ وزیر برقی جگدیشور ریڈی نے بھی پولیٹیکل جے اے سی کے صدر نشین پروفیسر کودنڈا رام سے سوال کیا کہ وہ کونسی جے اے سی کے صدر نشین ہیں کیوں کہ اب ریاست میں پولیٹیکل جے اے سی کا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہا ۔ اس پر وضاحت کرنے کے لیے زور دیا ۔

TOPPOPULARRECENT