Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس حکومت کے خلاف سوالات پر مبنی محمد علی شبیر کا کتابچہ

ٹی آر ایس حکومت کے خلاف سوالات پر مبنی محمد علی شبیر کا کتابچہ

صدر پی سی سی اتم کمار ریڈی کے ہاتھوں رسم اجراء، سیکڑوں وعدے وفا نہ ہونے کا الزام
حیدرآباد /12 نومبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے آج گاندھی بھون میں قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر کی جانب سے تیار کردہ ٹی آر ایس حکومت کی کار کردگی کے خلاف 50 سوالات پر مبنی کتابچہ کی رسم اجراء انجام دی اور کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی، وقف جائدادوں پر قبضہ برخاست کرنے، وقف بورڈ کو جوڈیشیل موقف دینے اور اردو کے فروغ میں ٹی آر ایس حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا، تاہم آلیر میں 5 زیر دریافت مسلم نوجوانوں کا بے رحمانہ قتل ضرور کیا گیا۔ اس موقع پر محمد علی شبیر کے علاوہ کانگریس کے ارکان قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی اور مسز اے للیتا بھی موجود تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے 529 دن مکمل ہوئے ہیں، چیف منسٹر کے سی آر اور وزراء 90 وعدے پورا کرنے کا ادعا کر رہے ہیں، مگر حقیقت میں 10 فیصد وعدے بھی پورے نہیں کئے گئے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ اگر یکمشت کسانوں کے قرضہ جات معاف کردیئے جاتے تو کیا 1500 کسان خودکشی کرتے؟۔ انھوں نے کہا کہ کسی دلت کو چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کرکے خود چیف منسٹر بن گئے اور ایک دلت ڈپٹی چیف منسٹر پر بدعنوانیوں کا الزام عائد کرکے دلتوں کی توہین کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر پر عائد بدعنوانیوں کی سی بی آئی تحقیقات کر رہی ہے، مگر انھوں نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرکے استعفی بھی نہیں دیا۔ اسی طرح مسلمانوں اور قبائلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کرکے دھوکہ دیا گیا، ہر گھر کے ایک فرد کو ملازمت دینے کا وعدہ کیا گیا، مگر منڈل میں ایک بھی بے روزگار نوجوان کو روزگار فراہم نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم پر عمل آوری نہیں ہوئی، فیس باز ادائیگی اسکیم کو نظرانداز کیا گیا، حکومت کی فاسٹ اسکیم سلو ہو گئی اور گلف متاثرین کی فلاح و بہبود کے لئے علحدہ وزارت کے قیام کے وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ نکسلائٹس کے ایجنڈا کو ٹی آر ایس کا ایجنڈا بتانے والی حکومت نے ورنگل میں دو نکسلائٹس کا انکاؤنٹر کردیا، اسی طرح ہر ضلع ہیڈ کوارٹر پر سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے قیام کے وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا، مادیگا طبقہ اور خواتین کو تلنگانہ کی کابینہ میں نظرانداز کیا گیا اور دلتوں کو تین ایکڑ اراضی دینے کے وعدہ کو فراموش کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ورنگل ضمنی انتخاب کے پیش نظر ایک مقام پر ڈبل بیڈروم کے فلیٹس تعمیر کرکے اس کی غیر ضروری تشہیر کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نظام شوگر فیکٹری اور اعظم جاہی ملز کے احیاء کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے، اسی طرح بی بی نگر میں ایمس کے قیام کے وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا اور حیدرآباد کی ترقی کو فراموش کردیا گیا۔ انھوں نے ریاست بہار کی طرح ورنگل میں بھی ٹی آر ایس اور بی جے پی امیدواروں کو شکست سے دو چار کرکے کانگریس امیدوار سروے ستیہ نارائنا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیل کی۔

TOPPOPULARRECENT