ٹی آر ایس دو گروپس میں منقسم، ہریش راؤ کے حامی ناراض

منسٹرس کوارٹرس میں سینکڑوں حامیوں کی آمد،ہریش راؤ کے بغیر آبپاشی پراجکٹس پر چیف منسٹر کا اجلاس

حیدرآباد۔/16 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی اور حکومت کی تشکیل کے فوری بعد تلنگانہ راشٹرا سمیتی دو گروپس میں منقسم دکھائی دے رہی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کابینہ کی تشکیل سے قبل اپنے فرزند کے ٹی راما راؤ کو پارٹی کا ورکنگ پریسیڈنٹ مقرر کرتے ہوئے اختیارات کی منتقلی کا آغاز کردیا۔ اس فیصلہ سے پارٹی میں دوسرے پاور سنٹر ہریش راؤ کے حامیوں میں ناراضگی پیدا ہوگئی۔ تلنگانہ تحریک میں کے سی آر کے بعد ہریش راؤ کے رول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ 2001 میں ٹی آر ایس کے قیام کے بعد سے ہریش راؤ نے ہر قدم پر کے سی آر کا ساتھ دیا اور تحریک کو ایک نئی جہت عطا کی اس کے باوجود حکومت کی دوبارہ تشکیل کے بعد کے سی آر نے اپنے فرزند کو ترجیح دیتے ہوئے ہریش راؤ کے حامیوں کو مایوس کردیا۔ سدی پیٹ اور دیگر علاقوں سے سینکڑوں کی تعداد میں ہریش راؤ کے حامی منسٹرس کوارٹرس پہنچ کر ہریش راؤ سے ملاقات کررہے ہیں۔ وہ کھل کر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ہریش راؤ کے آئندہ فیصلہ کے منتظر ہیں۔ منسٹرس کوارٹرس اور اس کے باہر ہریش راؤ کے حامیوں کی گاڑیاں کافی تعداد میں دکھائی دے رہی ہیں اور دن بھر مختلف علاقوں سے قائدین اور کارکنوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ قائدین نے شکایت کی کہ کے سی آر نے اقتدار حاصل ہوتے ہی انتخابی مہم کے ہیرو ہریش راؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے فرزند کو ترجیح دے دی ہے اس طرح بھانجے پر فرزند کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔

ہریش راؤ کے حامیوں کا خیال ہے کہ کے سی آر کو بیک وقت دونوں کیلئے اہم عہدوں کا اعلان کرنا چاہیئے تھا۔ اگر کے ٹی آر کو پارٹی میں اہم ذمہ داری دی گئی تو ہریش راؤ کو کابینہ میں شامل کیا جاسکتا تھا۔ جن بنیادوں پر ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی ان میں آبپاشی پراجکٹس کی تکمیل اہم کارنامہ ہے جس کیلئے ہریش راؤ کی کاوشیں فراموش نہیں کی جاسکتیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ہریش راؤ کے حامیوں کو یہ احساس ہورہا ہے کہ پارٹی اور حکومت میں انہیں نظرانداز کردیا گیا لیکن اسمبلی انتخابات کے موقع پر مختلف اضلاع میں مہم کیلئے ان کی خدمات حاصل کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کے 15 تا 20 ارکان اسمبلی کے ٹی آر کو ہریش راؤ پر ترجیح دینے کے فیصلہ سے ناراض ہیں۔ کابینہ کی تشکیل سے قبل کے ٹی آر کو ترقی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے فوری بعد اقتدار منتقل کرنے کی تیاری ہے۔ کے سی آر نے ایک بھی رکن اسمبلی کو کابینہ میں شامل نہیں کیا اور ایم ایل سی محمود علی کے ساتھ حلف لیا۔ کے سی آر نے آبپاشی پراجکٹس کے سلسلہ میں جائزہ اجلاس منعقد کیا لیکن پراجکٹس کی تعمیر میں اہم رول ادا کرنے والے ہریش راؤ اجلاس سے باہر رہے۔ چیف منسٹر کے انتخابی حلقہ گجویل اور ٹی آر ایس کے کٹر مخالف ریونت ریڈی کے حلقہ میں انتخابی مہم کی ذمہ داری ہریش راؤ کو دی گئی تھی اور دونوں حالات پر ان کی حکمت عملی کامیاب رہی۔ ریاست میں گزشتہ دو انتخابات سے وہ ریکارڈ اکثریت کے ساتھ کامیاب ہورہے ہیں۔ اس قدر مقبولیت رکھنے والے قائد کو نظرانداز کرنے پر حامیوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ہریش راؤ کے حامی ان سے ملاقات کرتے ہوئے چیف منسٹر کے فیصلہ پر اعتراض جتارہے ہیں۔ ایک قائد نے یہاں تک کہہ دیا کہ تقریب حلف برداری میں چیف منسٹر کے ارکان خاندان کو پہلی صف میں جگہ دی گئی لیکن ہریش راؤ کو پہلی صف میں نشست نہیں تھی اور انہیں ارکان اسمبلی اور کونسل کے ساتھ پچھلی نشستوں پر بیٹھنا پڑا۔ ہریش راؤ اپنے حامیوں کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پارٹی اور حکومت میں اہم عہدہ الاٹ کرنا چیف منسٹر کا اختیار ہے۔ چیف منسٹر نے کابینہ میں توسیع کے سلسلہ میں ابھی تک کوئی واضح اشارہ نہیں دیا ہے جس کے سبب ارکان اسمبلی میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف منسٹر نے قائدین نے کیلئے ایک شخص ایک عہدہ کی شرط رکھی ہے لیکن خود کو اور اپنے فرزند کو اس شرط سے مستثنیٰ رکھا ہے۔ کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر میں اہم رول ادا کرنے والے ہریش راؤ کی کابینہ میں شمولیت کے بارے میں بھی ان کے حامی اندیشوں کا شکار ہیں۔ بعض حامیوں نے ہریش راؤ کو نظرانداز کئے جانے پر احتجاج کی دھمکی دی لیکن ہریش راؤ نے انہیں اس طرح کے کسی بھی اقدام سے منع کردیا۔کے ٹی آر کو ورکنگ پریسیڈنٹ مقرر کئے جانے کے بعد ہریش راؤ کی قیامگاہ پہنچ کر انہوں نے خیرسگالی ملاقات کی اور دونوں نے ساتھ مل کر کام کرنے کا عہد کیا لیکن ہریش راؤ کی خاموشی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس فیصلہ سے خوش نہیں ہیں۔ تاہم انہیں کے سی آر کے آئندہ اقدام کا انتظار ہے۔

TOPPOPULARRECENT