Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس راجیہ سبھا نشست میں کامیابی کیلئے مختلف جماعتوں سے حصول تائید

ٹی آر ایس راجیہ سبھا نشست میں کامیابی کیلئے مختلف جماعتوں سے حصول تائید

حیدرآباد ۔ 27 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی ریاست میں راجیہ سبھا کی 6 نشستوں کے انتخابات میں ایک نشست پر اپنے امیدوار کی کامیابی کیلئے مختلف جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی نے سینئر قائد ڈاکٹر کے کیشو راؤ کو اپنا امیدوار بنانے کا اعلان کیا ہے۔ کیشو راؤ کل 28 جنوری کو پرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔ ٹی آر ایس ا

حیدرآباد ۔ 27 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی ریاست میں راجیہ سبھا کی 6 نشستوں کے انتخابات میں ایک نشست پر اپنے امیدوار کی کامیابی کیلئے مختلف جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی نے سینئر قائد ڈاکٹر کے کیشو راؤ کو اپنا امیدوار بنانے کا اعلان کیا ہے۔ کیشو راؤ کل 28 جنوری کو پرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کا اجلاس آج احاطہ اسمبلی میں منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر کیشو راؤ کے پرچہ نامزدگی کو قطعیت دی گئی ۔ ٹی آر ایس کے تمام ارکان اسمبلی نے پرچہ نامزدگی پر اپنے تائیدی دستخط کئے ہیں۔ اسی دوران ٹی آر ایس نے اپنے امیدوار کی کامیابی کیلئے سی پی آئی ، بی جے پی اور مجلس کی تائید حاصل کرنے ان پارٹیوں کے قائدین سے ملاقاتوں کا آغاز کیا ہے۔ ٹی آر ایس فلور لیڈر ای راجندر اور ڈاکٹر کیشو راؤ نے آج مجلس کے فلور لیڈر سے ملاقات کی اور تائید کی خواہش کی ۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے ریاستی صدر کشن ریڈی اور سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا سے بھی ملاقات کا منصوبہ ہے۔

یہ دونوں جماعتیں علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے حق میں ہیں۔ ریاستی اسمبلی میں ٹی آر ایس ارکان کی تعداد 17 ہے جبکہ بی جے پی 4 اور سی پی آئی 4 ارکان کے ساتھ کیشو راؤ کی تائید کرسکتی ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ تلگو دیشم کے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے پانچ باغی ارکان بھی کیشو راؤ کے حق میں ووٹ دیں گے۔ کانگریس پا رٹی میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ارکان کی تائید حاصل کرنے کیلئے خود کیشو راو مختلف ارکان سے ربط میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس میں طویل رفاقت کے باعث کانگریس کے کئی تلنگانہ ارکان نے انہیں اپنی تائید کا اعلان کیا ہے۔ اسمبلی میں عددی طاقت کے اعتبار سے کانگریس تین نشستوں پر بآسانی کامیابی حاصل کرسکتی ہیں جبکہ چوتھی نشست پر مقابلہ کی صورت میں اسے تقریباً 15 ارکان کی تائید کی ضرورت پڑے گی ۔ کانگریس نے ابھی تک صرف تین نشستوں پر مقابلہ کا اشارہ دیا ہے۔ ٹی آر ایس کو یقین ہے کہ اگر کانگریس صرف تین نشستوں پر مقابلہ کرے گی تو ڈاکٹر کیشو راؤ کی کامیابی یقینی ہوگی۔ راجیہ سبھا کے انتخابات میں اس مرتبہ بڑے پیمانہ پر کراس ووٹنگ کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ چونکہ کانگریس کے سیما آندھرا ارکان نے باغی امیدوار کو میدان میں اتارنے کا اشارہ دیا ہے لہذا کانگریس اور تلگو دیشم میں بڑے پیمانہ پر کراس ووٹنگ ہوسکتی ہے۔ ان حالات میں کوئی بھی پارٹی اپنے تمام امیدواروں کی کامیابی کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ چونکہ راجیہ سبھا کے انتخابات عام انتخابات سے عین قبل منعقد ہورہے ہیں ، لہذا علاقہ واری سطح پر ارکان بھی اپنی تائید کے سلسلہ میں منقسم ہوجائیں گے اور انہیں پارٹی وہپ کی کوئی پرواہ نہیں رہے گی۔

TOPPOPULARRECENT