Wednesday , April 25 2018
Home / شہر کی خبریں / ٹی آر ایس قائدین ، وزراء اور ارکان مقننہ کو بیان بازی سے گریز کا مشورہ : کے سی آر

ٹی آر ایس قائدین ، وزراء اور ارکان مقننہ کو بیان بازی سے گریز کا مشورہ : کے سی آر

وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی اور سرینواس گوڑ رکن اسمبلی کے بیانات پر پارٹی کو الجھن ، چیف منسٹر کی رفقاء کے ذریعہ تاکید
حیدرآباد۔15 ۔ جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پارٹی قائدین اور بالخصوص وزراء اور ارکان مقننہ کو حکومت اور پارٹی پالیسیوں کے خلاف بیان بازی سے گریز کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی اور رکن اسمبلی سرینواس گوڑ کے بیانات سے پارٹی کو الجھن کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ مخالف تلنگانہ قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت اور انہیں وزارت سمیت اہم عہدے دیئے جانے پر دونوں قائدین نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اپنے قریبی رفقاء کے ذریعہ دونوں قائدین کو پابند کیا کہ وہ آئندہ اس طرح کی بیان بازی سے گریز کریں۔ انہوں نے ڈسپلن شکنی کے مرتکب قائدین پر نظر رکھنے کیلئے بعض سینئر قائدین کو ذمہ داری دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سینئر قائدین کے علاوہ اضلاع میں ضلعی سطح کے قائدین بھی موجودہ صورتحال پر ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ایسے قائدین جو 2001 ء سے تلنگانہ تحریک میں سرگرم رہے، وہ ابھی تک پارٹی اور سرکاری اداروں میں عہدوں سے محروم ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد کے سی آر نے اعلان کیا تھا کہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے کارکنوں اور قائدین کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور تمام کے ساتھ انصاف ہوگا۔ گزشتہ تین برسوں میں 43 مختلف کارپوریشنوں اور بورڈس پر تقررات عمل میں آئے لیکن ان میں زیادہ تر تقررات چیف منسٹر کے قریبی قائدین اور وزراء کے سفارش کردہ ناموں پر مشتمل بتائے جاتے ہیں۔ ریاستی کابینہ میں ایسے وزراء بھی شامل ہیں جنہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر کے خلاف سخت بیانات دیئے تھے۔ تلگو دیشم سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد کو کابینہ میں جگہ دینے سے پارٹی حلقوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اب جبکہ عام انتخابات قریب ہیں، لہذا عہدوں سے محروم قائدین کھل کر اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کا فائدہ کانگریس پارٹی اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بنیادی سطح پر بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے کے سی آر نے اپنے بااعتماد رفقاء کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے قائدین کو عوامی پلیٹ فارم اور میڈیا کے روبرو بیان بازی سے باز رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نرسمہا ریڈی سے ربط قائم کرتے ہوئے انہیں جذبات پر قابو رکھنے کا مشورہ دیا۔ چیف منسٹر کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے محبوب نگر کے رکن اسمبلی سرینواس گوڑ نے اپنے سابقہ بیان سے انحراف کرلیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کابینہ میں مخالف تلنگانہ قائدین کو دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ سرینواس گوڑ نے اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے کہا کہ تلگو دیشم قائدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت سے متعلق کے سی آر کی حکمت عملی کی وہ تائید کرتے ہیں۔ پارٹی کے کئی ارکان مقننہ انفرادی طور پر بے چینی اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ انہیں کیڈر کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔ قائدین کا ماننا ہے کہ اگر انتخابات سے قبل حقیقی کارکنوں سے انصاف نہیں کیا گیا تو اس کا فائدہ اپوزیشن کو ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT