Wednesday , November 14 2018
Home / مضامین / ٹی آر ایس میں جمہو ریت نہیں

ٹی آر ایس میں جمہو ریت نہیں

محمد نعیم وجاہت
ملک میں منظم سازش کے تحت مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے یا پھر ہندوستانی سیاست مذہبی نوعیت کے اطراف گردش کررہی ہے۔ مسلمانوں کے مسائل ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا اہم موضوع رہے ہیں خواہ وہ مثبت ہو یا منفی ان مسائل کو اُجاگر کرتے ہوئے سیاسی جماعتیں اپنی دکان چمکانے میں مصروف ہیں لیکن 2014 کے عام انتخابی نتائج کے بعد جو صورتحال دیکھی جارہی ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل کو وہی حیثیت حاصل ہے جتنی کہ کائنات میں زمین کو، جس طرح زمین کے اطراف سیارے گردش کرتے ہیں اسی طرح مسلمانوں کے مسائل کے اطراف تمام سیاسی جماعتیں گھوم رہی ہیں۔ زمین کو دو ایسے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے جس میں وہ تکلیف کا شکار ہوتی ہے جن میں ایک سورج گہن اور دوسرا چاند گہن ہوتاہے۔ لیکن ہندوستانی مسلمانوں کو طلاق ثلاثہ، حج سبسیڈی کی برخواستگی، گاؤکشی، تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے کی کوشش، مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کی سازش، دہشت گردی کے الزامات، انکاؤنٹر، لوجہاد، لینڈ جہاد، تاج محل، ٹیپو سلطان سے بغض، رام مندر، اسرائیل سے دوستی جیسے کئی گہن کا سامنا ہے جو ایک ہی سیاسی جماعت اور اس کی محاذی تنظیموں کی جانب سے لگائے جارہے ہیں۔ مسلمان اس ملک میں مہمان نہیں ہیں بلکہ برابر کے حصہ دار ہیں۔ مسلمانوں نے دیگر ابنائے وطن طرح برابر کی قربانیاں دی ہیں۔ وہی لوگ مسلمانوں کی حب الوطنی، ایمانداری اور دیانتداری پر سوال اُٹھا رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف تحریک آزادی سے اپنے آپ کو دور رکھا بلکہ انگریزوں کی غلامی بھی کی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو نت نئے طریوں سے تنگ کرنا فیشن ہوگیا ہے۔ ہر مسئلہ کو مذہب کی عینک سے دیکھتے ہوئے ملک کے اکثریتی و اقلیتی طبقات میں دوریاں پیدا کی جارہی ہیں۔ مسلمانوں کی کمزوریوں کو بھانپ کر فرقوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان کی طاقت اور اتحاد کو توڑا جارہا ہے۔ اس معاملے میں ہندوستانی میڈیا کا رول بھی آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ملک کئی مسائل سے دوچار ہے۔ حالیہ عرصہ میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی جبکہ عالمی منڈی میں فی بیارل خام مال (پٹرولیم اشیاء ) کی قیمت 60 ڈالر سے بھی کم ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے جو غریب عوام پر زائد مالی بوجھ ہے۔ تعلیمی فیس آسمان کو چھورہی ہے۔ ملک کو آزاد ہوئے 70 سال مکمل ہونے کے باوجود امیر اور غریب کے درمیان فرق گھٹا نہیں ہے۔ غربت کی سطح میں کوئی نمایاں فرق نہیں آیا ہے۔ خواتین کے تحفظ و نگہداشت کیلئے کئی قوانین بنائے گئے ہیں لیکن جرائم کی شرح گھٹی نہیں ہے، بچہ مزدوری بھی جاری ہے۔ ان مسائل پر حکمراں طبقہ کو توجہ دینی چاہیئے مگر وہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے مذہب کو سیاست سے جوڑ رہے ہیں اور اپنے سیاسی مفادات کیلئے محبت کا گہوارہ کہلانے والے ہندوستان کے چمن کو اُجاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس معاملے میں بی جے پی سب سے آگے ہے۔

ایک طرف الیکشن جیتنے کیلئے بی جے پی مسلمانوں کی دل آزاری کررہی ہے تو دوسری طرف ہندوتوا کی حامی بھرنے والے بعض مسلمان ان کی ہر بات کی ستائش کرتے ہوئے ان کے نور نظر بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر دینی مدارس کو برخواست کرنے کا شوشہ بھی اس میں شامل ہے۔
تلنگانہ میں بھی سیاسی تبدیلیاں بڑی تیزی سے کروٹ بدل رہی ہیں۔ علحدہ تلنگانہ جذبہ کے تحت 2014 میں اقتدار حاصل کرنے والی ٹی آر ایس پارٹی 2019 میں ترقی اور فلاح و بہبود کو انتخابی موضوع بناکر مقابلہ کرنے کی تیاریاں کررہی ہیں۔ تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کا تلنگانہ میں وجود نہیں کے برابر ہے بلکہ اصل مقابلہ حکمراں جماعت ٹی آر ایس اور اصل اپوزیشن کانگریس کے درمیان ہوگا۔ مرکز میں بی جے پی برسراقتدار ضرور ہے لیکن تلنگانہ میں اس کا وجود برائے نام ہے۔ 2014 ء میں تلگودیشم اور بی جے پی اتحاد کے باعث حیدرآباد میں بی جے پی کا ایک رکن پارلیمنٹ اور 5 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ تلنگانہ میں تلگودیشم ختم ہوچکی ہے اور اس کے کئی قائدین ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں اور بعض قائدین کانگریس میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں اور جو باقی رہ گئے ہیں ان سے خود تلگودیشم کو بہتر مظاہرہ کی اُمید نہیں ہے اور وہ اپنے روشن مستقبل کی فکر میں ہے۔ علحدہ ریاست کی اولین حکومت تشکیل دینے والے کے چندر شیکھر راؤ یقیناً سیاسی بصیرت کے حامل ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی حکومت کو مستحکم بنانے کیلئے دوسری جماعتوں کے 25 ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے یقیناً اپوزیشن کو کمزور کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور انہوں نے وقفہ وقفہ سے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ٹی آر ایس میں شامل کیا اور ان کی یہی کوشش ان کے لئے دردِ سر بنی ہوئی ہے کیونکہ انہیں دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والوں سے زیادہ اپنی پارٹی کے قائدین کی ناراضگی کا سامنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹی آر ایس کے انتخابی نشان ’’ کار ‘‘ میں اب تمام نشستیں پُر ہوگئی ہیں، کار کے اندر چھت پر بھی تمام قائدین چڑھ گئے ہیں جس سے ’ کار ‘ کبھی بھی بے قابو ہوسکتی ہے اور حادثہ کے امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ٹی آر ایس ایک علاقائی پارٹی ہے جس کی وجہ سے تمام اختیارات پارٹی سربراہ کے پاس محفوظ ہیں اور پارٹی میں جمہوریت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ کابینہ میں وزراء کی نصف تعداد ان ارکان کی ہے جنہوں نے تلنگانہ تحریک کی مخالفت کی یا پھر تلنگانہ تحریک سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں رہا ہے۔ ایسے بھی ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ پارٹی میں موجود ہیں جنہوں نے کے سی آر پر تنقیدیں کی تھی لیکن اب انہیں ٹی آر ایس میں ہیرو بنایا گیا ہے اور کے سی آر کی تائید اور ٹی آر ایس کی حمایت میں کھڑے رہنے والی پارٹی کے حقیقی قائدین کو نظرانداز کردیا گیا یہاں تک کہ پارٹی کے تنظیمی عہدوں اور بورڈ وکارپوریشنوں کے نامزد عہدوں پر بھی غیر ٹی آر ایس قائدین کو اہمیت دیتے ہوئے ان کے حوصلوں کو پست کیا گیا جس کے سبب دو مسلم قائدین نے خودکشی کرتے ہوئے ٹی آر ایس قیادت کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔

ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے گئے تھے ان میں سے ایک بھی وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا ۔ ٹی آر ایس میں مسلمانوں کے بشمول سماج کے کسی بھی طبقہ کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کیا گیا باوجود اس کے تمام طبقات کی خاموشی اس بات کی علامت ہے کہ ٹی آر ایس میں جمہوریت کا فقدان ہے۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدہ کو چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے پورا نہیں کیا بلکہ پہلے دو سال افطار پارٹی کی تقاریب سے آئندہ رمضان تک مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ جب تمام دروازے بند ہوگئے تو مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کرنے کے مطالبہ کے ساتھ مرکز سے لڑنے اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تسلی دینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ تقسیم ریاست بل میں تلنگانہ کیلئے مرکز نے جو وعدے کئے تھے اس کو حاصل کرنے میں بھی ٹی آر ایس حکومت ناکام رہی۔ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کو 17 تعلیمی ادارے دیئے گئے لیکن تلنگانہ کو ایک بھی تعلیمی ادارہ نہ دینے پر ڈپٹی چیف منسٹر نے مرکز پر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ ہائی کورٹ کی ابھی تک تقسیم عمل میں نہیں آئی اور اس سلسلہ میں ٹی آر ایس نے مرکزی حکومت کے خلاف کوئی جدوجہد نہیں کی تو کیا ایسی حکومت مسلم تحفظات کیلئے مرکز سے آر پار کی لڑائی کیسے کرسکتی ہے؟ جبکہ ٹی آر ایس نے مودی حکومت کے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کے معاملہ میں کھل کر تائید کی۔یہاں تک کہ ین ڈی اے کا حصہ نہ ہونے کے بوجود طلاق ثلاثہ بل سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے بی جے پی نظریات کی بالراست تائید کی ہے۔ باجود مرکز نے ریاست سے کسی بھی معاملہ میں کوئی ہمدردی نہیں جتائی۔ مسلم تحفظات کے معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنے کیلئے ٹی آر ایس مرکز کو عوامی عدالت میں قصور وار قرار دینے کی کوشش کررہی ہے۔
ریاست میں اقلیتی اقامتی اسکولس کے قیام کو بہت بڑا کارنامہ قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ مسلم طلبہ کیلئے انگریزی تعلیم حکومت کی سطح پر فراہم کی جارہی ہے۔ ان اسکولس میں داخلے بھی ایک مثبت اقدام ہے مگر سکہ کا دوسرا رُخ بھی ہے جہاں اردو میڈیم سرکاری اسکولس بند ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں ۔ محکمہ تعلیم نے جو رہنمایانہ اُصول تیار کئے ہیں اس کے تحت ایک کلاس میں 15 طلبہ کی عدم موجودگی سے اُن اسکولس کو دوسرے سرکاری اسکولوں میں ضم کردیا جائے گا۔ اُردو میڈیم اسکولوں کو نقصان پہنچے گا تو اردو اساتذہ کے تقررات نہیں ہوں گے ۔ اگرچیکہ اردو کو دوسری سرکاری زبان کادرجہ دیا گیا ہے لیکن جب اسکولوں سے ہی اُردو ختم ہوجائے گی تو اس کا فروغ کیسے ہوگا۔ ٹی آر ایس حکومت میں ہر سال اقلیتی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے مگر اسمبلی میں منظور کردہ اقلیتی بجٹ کسی بھی سال مکمل طور پر خرچ نہیں ہوا ہے۔ مثال کے طور پر سال 2014-15 سے 2017-18 تک اقلیتی بہبود کیلئے 4579 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس میں نصف یعنی 2742 کروڑ ہی خرچ کئے گئے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے مرکز کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں مگر اقلیتی بجٹ کا استعمال تو ان کا اپنا اختیار ہے پھر اسے خرچ کیوں نہیں کررہے ہیں، آخر اس میں کیا رکاوٹ ہے؟ اقلیتوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے کیلئے قرض کی اجرائی بھی مایوس کن ہے۔ تعلیم کی ذمہ داری محکمہ تعلیم کے سپرد ہوتی ہے مگر اقلیتی اقامتی اسکولس کے اخراجات بھی اقلیتی بجٹ سے استعمال کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے اقلیتی بجٹ 50 فیصد خرچ کیا گیا ہے ورنہ دوسرے مد میں بہت کم بجٹ کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔سب سے زیادہ بجٹ ’ شادی مبارک ‘ اسکیم کیلئے جاری کیا گیا ہے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے بقایا جات تین سال سے جاری نہیں کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے پروفیشنل کورسیس کی تکمیل کرنے والے کالجس کامیاب ہونے والے طلبہ کو اسنادات دینے سے بھی انکار کررہے ہیں جس سے اقلیتی طلبہ کا مستقبل بجائے روشن ہونے کے تاریکی میں تبدیل ہوگیا ہے کیونکہ یہ کامیاب طلبہ نہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور نہ کوئی ملازمت کرسکتے ہیں اس لئے کہ ان کی ڈگریاں کالجس کی الماریوں میں بند پڑی ہیں۔ اوورسیز اسکالر شپس کی بھی حکومت کی جانب سے زبردست تشہیر کی گئی جس پر بھروسہ کرکے جو طلبہ بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں داخلے حاصل کرچکے ہیں ان کی فیس اجرائی میں ٹال مٹول کیا جارہا ہے۔ کیا اس طرح کی مجہول پالیسی اختیار کرنا درست ہے ؟ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT